متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں مواد بنانے والے کریئیٹرز، آن لائن دباؤ کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار

خلیج اردو
یو اے ای میں مواد تخلیق کرنے والے بعض کریئیٹرز کو آن لائن دباؤ کے باعث ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔ بظاہر یہ کام آسان پیسہ، لچکدار اوقات اور فوری شہرت کے مواقع فراہم کرتا ہے، لیکن حقیقت میں بیک وقت پوسٹنگ اور الگوردم کے دباؤ کے سبب ذہنی تناؤ، اینگزائٹی اور برن آؤٹ بڑھ رہے ہیں۔

تین سال سے مواد بنانے والی اسما ایس نے شروع میں اپنی ویڈیوز میں اپنا چہرہ نہیں دکھایا۔ وہ دبئی میں زندگی کے مناظر، پسندیدہ کھانے، اور ابو ظہبی سے روزانہ کے سفر کے لمحات شیئر کرتی رہیں۔ بعد میں انہوں نے اپنا چہرہ دکھانا شروع کیا تو ناظرین کی جانب سے تنقید اور چھوٹے چھوٹے نکات پر اعتراضات بڑھ گئے۔

ایک اور کریئیٹر افرا نے بتایا کہ کبھی کبھی ناظرین کی منفی رائے حد سے بڑھ کر حملے کی شکل اختیار کر جاتی ہے، جس کے باعث وہ نفسیاتی مدد لینے پر مجبور ہو گئیں۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ مواد تخلیق کرنے والوں میں خود اعتمادی کی کمی، برن آؤٹ اور مسلسل ذہنی دباؤ عام ہوتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر حسانہ مطر کے مطابق، “جب تسلی اور خود اعتمادی صرف آن لائن انگیجمنٹ پر منحصر ہو، تو یہ ذہنی دباؤ اور مستقل تناؤ پیدا کر سکتا ہے”۔

ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ کریئیٹرز کے لیے ضروری ہے کہ وہ حد بندی قائم کریں، تبصرے محدود کریں، وقفے لیں اور وقت پر مدد حاصل کریں تاکہ دباؤ قابو سے باہر نہ ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جیسے جیسے کریئیٹر اکنامی بڑھ رہی ہے، اس کے نفسیاتی اثرات کو سمجھنا اور تسلیم کرنا اہم ہو گیا ہے تاکہ کیمرے کے پیچھے زندگی کی حقیقت واضح ہو سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button