
خلیج اردو
دنیا بھر میں شدید موسمی تبدیلیوں کے باعث تعمیرات کے شعبے میں پائیداری کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق عمارتیں اور تعمیراتی شعبہ عالمی توانائی سے متعلق کاربن اخراج کا تقریباً 40 فیصد ذمہ دار ہیں، جو پائیدار تعمیرات کو ناگزیر بناتا ہے۔
یو اے ای میں حکومت نے پائیداری کو قومی ترقی کی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون قرار دیا ہے۔ ابوظہبی میں استدامہ اور دبئی میں السافات جیسے نظام تعمیراتی منصوبوں کو ماحول دوست خطوط پر استوار کرنے کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں۔ مالیاتی ادارے بھی ای ایس جی کارکردگی کو سرمایہ کاری سے جوڑ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پائیدار ڈیزائن خوبصورتی یا افادیت میں کمی نہیں کرتا بلکہ عمارتوں کو زیادہ مؤثر اور دیرپا بناتا ہے۔ قدرتی روشنی، ہوا کی بہتر گردش، گرین روف، سولر انرجی اور مقامی مواد کے استعمال سے توانائی کی بچت ممکن ہوتی ہے۔
گالاڈاری گروپ کے مطابق دبئی میں نیا ملٹی اسپورٹس کمپلیکس السافات گولڈ سرٹیفکیشن کے تحت تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ سری لنکا میں ریڈی سن بلو ہوٹل گالاڈاری کی تزئین و آرائش میں بھی توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ مختلف تنصیبات پر روف ٹاپ سولر سسٹمز بھی نصب کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی مؤثر ریٹروفٹس سے عمارتوں کے اخراج میں 50 فیصد تک کمی آ سکتی ہے اور 5 سے 10 سال میں لاگت واپس آ جاتی ہے۔ اصل سوال اب یہ نہیں کہ گرین ہونا مہنگا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے بغیر ہم کیا کھو رہے ہیں۔







