
خلیج اردو
یو اے ای کے صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطہ مزید تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل ہی واحد راستہ ہے۔
یہ بات انہوں نے یو اے ای۔کویت میڈیا فورم میں “اسٹریٹجک پارٹنرشپ اینڈ برادرہُڈ فاریور” کے عنوان سے ہونے والے سیشن میں کہی۔
ڈاکٹر قرقاش نے کہا کہ اگرچہ ایران کے ساتھ حالات میں کشیدگی کوئی حیران کن بات نہیں، تاہم یو اے ای اور خلیجی ممالک کی اولین ترجیح تصادم سے بچنا ہے۔
انہوں نے کہا، “ایران ہمارے لیے ایک ہمسایہ ملک ہے، چاہے تعلقات جیسے بھی رہے ہوں۔ تعلقات آسان نہیں رہے، لیکن ہم ایک ہی خطے میں رہتے ہیں، اس لیے سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔”
ڈاکٹر قرقاش نے واضح کیا کہ خلیجی ممالک اجتماعی طور پر اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال ہو۔ انہوں نے کہا، “اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ایران خلیجی ممالک کو دھمکی نہ دے، یہ ایک واضح اور دو طرفہ سمجھوتا ہونا چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ کسی بھی تنازع کے خلیجی ریاستوں پر اثرات صرف سیکیورٹی تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس سے خطے کی ساکھ، استحکام اور مالی حیثیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
اسی نشست کے دوران ڈاکٹر قرقاش نے یو اے ای کے خلاف چلنے والی مبینہ میڈیا مہم پر بھی بات کی اور اسے “بہتان، جھوٹ اور من گھڑت خبروں” پر مبنی قرار دیا۔
انہوں نے کویت کے ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کویتی عوام اور قیادت کے وقار کے مطابق ہے اور دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کا عکاس ہے۔
ڈاکٹر قرقاش نے اختلافِ رائے کو فطری قرار دیتے ہوئے کہا، “اختلاف معمول کی بات ہے، مگر تنازع میں اخلاقی حدود کا پامال ہونا معمول نہیں۔”
انہوں نے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ منڈی، آزادانہ سفر اور روزگار جیسے اقدامات نے کونسل کو خطے میں اتحاد کی مضبوط علامت بنایا ہے۔







