
خلیج اردو
رمضان المبارک 2026 سے قبل یو اے ای بھر کے ریٹیلرز نے ہزاروں مصنوعات پر 70 فیصد تک رعایتوں کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ بعض اشیاء کی قیمتیں صرف ایک درہم سے شروع ہو رہی ہیں۔
رمضان کا آغاز چاند دیکھنے پر 18 یا 19 فروری کو متوقع ہے، جس کا مشاہدہ 29 فروری کی شام کو کیا جائے گا۔
کھجوروں، مشروبات، ذاتی استعمال کی اشیاء اور کچن اپلائنسز سمیت آن لائن اور فزیکل اسٹورز میں گروسری، گھریلو سامان، الیکٹرانکس اور پرسنل کیئر مصنوعات پر خصوصی آفرز متعارف کرائی گئی ہیں۔
ابوظہبی کی اے ڈی کوآپ نے رمضان 2026 مہم کے لیے 2 کروڑ درہم کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت 4 ہزار سے زائد مصنوعات پر 60 فیصد تک رعایت اور 1,500 بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔
اے ڈی کوآپ کے مطابق 30 ہزار مفت افطار کھانے تقسیم کیے جائیں گے جبکہ رمضان ضروریات کے 12 ہزار پیکجز 99 اور 149 درہم میں دستیاب ہوں گے، جو اسٹورز اور آن لائن پلیٹ فارمز پر فروخت کیے جائیں گے۔
اے ڈی کوآپ کے ریٹیل سی ای او برٹرینڈ لومائے نے کہا،
"ہماری توجہ اس بات پر ہے کہ رمضان جیسے مصروف اوقات میں بھی خاندانوں کو مناسب قیمتوں پر معیاری خوراک کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے۔”
المایا سپرمارکیٹس نے منتخب اشیاء پر 25 سے 40 فیصد تک رعایت دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ رمضان میں رات اور نصف شب کے خصوصی ڈسکاؤنٹ پروگرام بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔
المایا کے نائب سی ای او کمال وچانی کا کہنا تھا،
"رمضان میں رات کے اوقات میں خریداروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، اسی لیے خصوصی شام اور مڈنائٹ پروموشنز متعارف کروائی گئی ہیں۔”
آن لائن ریٹیلر نون نے گروسری، رمضان ضروریات، ہوم ڈیکور، فیشن اور بیوٹی سمیت مختلف کیٹیگریز میں 70 فیصد تک رعایت کا اعلان کیا ہے، جبکہ نون منٹس پر کئی اشیاء ایک درہم سے دستیاب ہوں گی۔
لولو ہائپرمارکیٹ نے 5,500 سے زائد مصنوعات پر 65 فیصد تک رعایت اور 300 بنیادی اشیاء پر قیمتیں منجمد رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
لولو کے گلوبل آپریشنز ڈائریکٹر سلیم ایم اے نے کہا،
"ہمارا مقصد رمضان میں خاندانوں کو ویلیو پر مبنی خریداری کا بہتر تجربہ فراہم کرنا ہے۔”
ایمیزون نے بھی 27 جنوری سے 14 فروری تک لاکھوں ڈیلز متعارف کرائی ہیں، جن میں بینک ڈسکاؤنٹس، آسان ادائیگی اور فوری ڈیلیوری سہولیات شامل ہیں۔
مجموعی طور پر رمضان سے قبل ان بڑے ڈسکاؤنٹس کا مقصد مہنگائی کے دباؤ میں صارفین کو ریلیف فراہم کرنا اور خریداری کو آسان بنانا ہے۔







