29 جون پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سے خط کے ذریعے پائلٹس، ایئر کرافٹ مینٹیننس انجینئر اور فلائٹ آپریشن افسران کے کوائف طلب کیئے گئے ہیں. رپورٹ
حکومت پاکستان کی جانب سے مشکوک لائسنسز کی بنیاد پر 262 پائلٹس کو گراﺅنڈ کرنے کے بعد متحدہ عرب امارت نے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجنیئرز کے کوائف کی تصدیق کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) سے درخواست کی ہے. خیال رہے کہ پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو مشکوک قرار دیتے ہوئے انہیں گراﺅنڈ کردیا تھا وزیر ہوابازی غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں.
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سیف محمد السویدی نے 29 جون پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل حسن ناصر کو ارسال کیے گئے خط میں اپنے ملک میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس، ایئر کرافٹ مینٹیننس انجینئر اور فلائٹ آپریشن افسران کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی. خط میں کہا گیا تھا کہ ہم آپ کے دفاتر سے فہرست میں موجود پائلٹس کے لائسنز کی تصدیق کی درخواست کرتے ہیں جو اس وقت پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی سے جاری کردہ لائسنسز کی بنیاد پر متحدہ عرب امارت کے پائلٹ لائسنسز کے حامل ہیں‘تاہم پاکستان کی وزارت ہوابازی کی جانب سے اس حوالے سے رائٹرز کی جانب سے رابطے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا گزشتہ روز یورپی یونین ایئر سیفٹی ایجنسی(ایاسا) نے لائسنسز کے حوالے سے تحفظات کے باعث پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کے اجازت نامے کو 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا.
دوسری جانب پاکستان ایئرلائنز پائلٹ ایسوسی(پالپا) نے ایک بیان میں الزام عائد کیا کہ ‘مشکوک’ لائسنسز سے متعلق اعلان پائلٹس کے خلاف حکومتی منصوبہ بندی تھی‘پالپا نے کہا کہ کچھ لوگوں کی جانب سے پائلٹس کی تعداد میں کمی کی کوشش کی ذہنیت کے ساتھ بدنیتی پر مبنی کوششوں کت نتیجے میں پی آئی اے صرف کاغذ تک ہی ایئرلائن رہ گئی ہے. ساتھ ہی پالپا نے مشکوک لائسنسز سے متعلق حکومتی فہرست کو مسترد کیا اور نشاندہی کی کہ فہرست تضادات سے بھرپور ہے، پالپا نے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا علاوہ ازیں برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے قانون کے مطابق اپنے 3 ایئرپورٹس سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے‘برطانوی اتھارٹی کے ترجمان نے بتایا کہ برمنگھم، لندن ہیتھرو اور مانچسٹر ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازیں فوری طور پر معطل کی جاتی ہیں.
چند روز قبل ویتنام کی سول ایوی ایشن کے حکام نے مبینہ جعلی لائنسس اسکینڈل سامنے آنے کے بعد متعلقہ وزارت کی ہدایت پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے کم از کم 20 پائلٹس کو معطل کردیا تھاویتنام کی سول ایوی ایشن (سی اے اے وی) کے ڈائریکٹر ڈنھویٹ تھنگ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ وزارت ٹرانسپورٹ کی ہدایت پر کیا گیا تھا ڈنھویٹ تھنگ نے کہا تھا کہ تقریباً 20 پائلٹس کو معطل کردیا گیا ہے اور یہ تمام پاکستان کے شہری تھے اور پاکستان سے ہی لائسنس حاصل کیا تھا.
Source : Link







