متحدہ عرب امارات

لامحدود انتخاب کی قیمت، جدید دور میں فیصلہ سازی کا بڑھتا ہوا بحران اور ذہنی دباؤ

خلیج اردو
جدید دنیا میں زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں انتخاب کی بھرمار ہو چکی ہے، جس کے باعث خریداری ہو یا روزمرہ فیصلے، درست انتخاب کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

بچوں کو کھلونوں کی دکان میں ایک کھلونا چننے میں دشواری پیش آتی ہے، جہاں رنگ، ڈیزائن اور نئی اقسام انہیں الجھا دیتی ہیں۔ یہی صورتحال گھریلو آلات، گاڑیوں، کپڑوں اور دیگر اشیا کی خریداری میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق انتخاب کی یہ زیادتی ذہنی دباؤ کو بڑھاتی ہے اور ایک مستقل عدم اطمینان کو جنم دیتی ہے، کیونکہ فیصلہ کرنے کے بعد بھی یہ احساس رہتا ہے کہ شاید کوئی بہتر انتخاب موجود تھا۔

دفاتر میں بھی یہی رجحان نظر آتا ہے، جہاں نئے ملازمین چند ہفتوں یا مہینوں میں ہی بے دلی کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے اداروں کو بھرتی کے بھاری اخراجات کے باوجود زیادہ ٹرن اوور کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سماجی تعلقات اور خاندانی زندگی بھی اس اثر سے محفوظ نہیں رہیں۔ سوشل میڈیا پر موجود لاتعداد متبادل مسلسل موازنہ کو فروغ دیتے ہیں، جس سے اطمینان اور خوشی کا دورانیہ مختصر ہوتا جا رہا ہے۔

نتیجتاً لوگ زیادہ کمانے اور زیادہ حاصل کرنے کی دوڑ میں 50 سے 60 گھنٹے ہفتہ وار کام کرنے لگتے ہیں، یہاں تک کہ انہیں اپنی کامیابیوں سے لطف اندوز ہونے کا وقت ہی نہیں ملتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ محدود انتخاب فیصلہ سازی کو آسان بناتا ہے، جیسا کہ بیسویں صدی کے آغاز میں نیویارک کے ایک جوتا ساز نے صرف دو آپشن دے کر کامیابی حاصل کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ہم انتخاب کی اس دوڑ کو نہ روک سکے تو ہم اپنی اصل انسانی اقدار کھو بیٹھیں گے، جو ہمیں واقعی منفرد اور باوقار بناتی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button