
خلیج اردو
دبئی لوپ منصوبے کے پہلے مرحلے کی تیاری کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں صارفین نے دبئی کو "ٹاپ ٹئیر سٹی” قرار دیا ہے۔
دھائی ارب درہم کی لاگت سے تعمیر ہونے والا دبئی لوپ زیرِ زمین ٹرانسپورٹ سسٹم ایلون مسک کی کمپنی دی بورنگ کمپنی کا منصوبہ ہے، جسے دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔
یہ جدید نظام فی گھنٹہ 20 ہزار مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا، جس کے بعد دبئی دنیا کا دوسرا شہر بن جائے گا جہاں یہ ٹیکنالوجی متعارف کرائی جا رہی ہے۔
3 فروری کو پہلے دو اسٹیشنز کے اعلان کے موقع پر دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم اور ایلون مسک کے درمیان سوشل میڈیا پر دلچسپ تبادلۂ خیال ہوا۔
دی بورنگ کمپنی کی جانب سے معاہدے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ 6.4 کلومیٹر سرنگ اور چار اسٹیشنز پر مشتمل پائلٹ سسٹم کی تعمیر 2026 کے آخر میں شروع ہوگی۔
ایلون مسک نے جواب میں کہا کہ دی بورنگ کمپنی دبئی لوپ تعمیر کرے گی۔
شیخ حمدان نے اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ سفر ہم نے گزشتہ سال ورلڈ گورنمنٹس سمٹ میں شروع کیا تھا، دبئی لوپ عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ایلون مسک نے منصوبے کو انتہائی شاندار”
قرار دیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس منصوبے کو دبئی کی جدید سوچ اور مستقبل بین حکمت عملی کی مثال قرار دیتے ہوئے دلچسپ تبصرے اور میمز بھی شیئر کیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ٹریفک مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگا اور دبئی کو دنیا کے جدید ترین شہروں میں مزید آگے لے جائے گا۔
ماہرین کے مطابق زیرِ زمین ٹرانسپورٹ سسٹم سڑکوں پر دباؤ کم کرے گا، تاہم اس کی کامیابی اسٹیشنز کے درست انتخاب اور موجودہ ٹرانسپورٹ نظام سے مؤثر ربط پر منحصر ہوگی۔
آر ٹی اے کے مطابق دبئی لوپ 24 کلومیٹر طویل ہوگا، جس میں 19 اسٹیشنز شامل ہوں گے، جبکہ پہلے مرحلے میں ڈی آئی ایف سی اور دبئی مال کے درمیان چار اسٹیشنز تعمیر کیے جائیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دبئی لوپ منصوبہ دبئی کو عالمی سطح پر اسمارٹ موبیلٹی کا نمایاں مرکز بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔






