متحدہ عرب امارات

کم کرایوں پر دبئی چھوڑنے والے کرایہ دار 2026 میں واپس آ سکتے ہیں

خلیج اردو
دبئی: رئیل اسٹیٹ ماہرین کے مطابق وہ کرایہ دار جو زیادہ کرایوں کے باعث دبئی چھوڑ کر دیگر امارات منتقل ہوئے تھے، 2026 سے دوبارہ دبئی واپسی پر غور کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی رہائشی سپلائی کے باعث بعض علاقوں میں کرایوں میں کمی متوقع ہے جبکہ طویل سفری مسائل بھی واپسی کی ایک بڑی وجہ بن سکتے ہیں۔

پراپرٹی مانیٹر کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران مجموعی طور پر 648 منصوبے لانچ کیے گئے، جن کے ذریعے مارکیٹ میں 1 لاکھ 67 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس شامل ہوئے۔ آنے والے برسوں میں لانچ ہونے والے منصوبوں کے نتیجے میں رہائشی سپلائی میں مسلسل اضافہ متوقع ہے۔

ہاوس اینڈ ہاوس کے سیلز ڈائریکٹر ہیریسن ریکھم بیڈل کے مطابق "2026 کے بعد متوقع نئی سپلائی کرایہ داروں کو انتخاب کا موقع دے گی، جو انہیں کافی عرصے سے میسر نہیں تھا۔ جے وی سی اور دبئی ہلز اسٹیٹ جیسے علاقوں میں یونٹس کی حوالگی سے کرایہ داروں کو بہتر آپشنز اور مذاکرات کی طاقت ملے گی۔”

ان کا کہنا تھا کہ وہ کرایہ دار جو زیادہ کرایوں کے باعث دبئی سے باہر گئے تھے، کرایوں میں سست روی یا کمی کے بعد دوبارہ دبئی کو ترجیح دے سکتے ہیں، کیونکہ طویل سفر کے مقابلے میں رہائش، سہولیات اور طرزِ زندگی زیادہ پرکشش ہو جائے گا۔

آرتھاؤس ہلز ارجان کے پارٹنر بھاسکرا سنتوش پنورو کے مطابق اگر ڈیولپرز 10 سے 20 لاکھ درہم کی رینج میں معیاری پراپرٹیز فراہم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو عجمان اور شارجہ سے لوگ دوبارہ دبئی آنا چاہیں گے، خاص طور پر اسٹوڈیو اور ایک سے دو بیڈروم یونٹس کی صورت میں۔

مرلن رئیل اسٹیٹ کے شریک بانی روہت بچانی کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اوور سپلائی کی نہیں بلکہ مڈ مارکیٹ میں معیاری رہائشی یونٹس کی کمی کی عکاس ہے۔ ان کے مطابق وہ منصوبے جو خاندانوں اور طویل مدتی رہائش کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہیں، زیادہ سپلائی کے باوجود بھرپور ڈیمانڈ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button