
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے Technology Innovation Institute کے ماہرین نے دو سالہ تحقیق، تجربات اور مسلسل آزمائش کے بعد ملک کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ ہائبرڈ راکٹ کامیابی سے لانچ کر دیا ہے۔
شارجہ میں ہونے والے اس منصوبے میں انجینئرز نے لانچ سے محض دو منٹ قبل تک ٹیلی میٹری کوڈ میں تبدیلیاں کیں، جس کے بعد راکٹ نے کامیاب پرواز کی اور اپنے بلند ترین مقام پر پہنچ کر دو حصوں میں تقسیم ہو کر پیراشوٹ کے ذریعے بحفاظت زمین پر واپس آ گیا۔
پروجیکٹ کے آغاز میں ماہرین اور نوجوان ٹیلنٹ پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی، جس کی قیادت ڈاکٹر الیاس تسوتسانِس نے کی۔ ٹیم نے ابتدائی مراحل میں مینوفیکچرنگ اور سپلائی چین سے متعلق خطرات کی نشاندہی کی، کیونکہ راکٹ کے پرزہ جات پروٹوٹائپ سطح پر تیار کیے جا رہے تھے۔
مقامی سپلائرز کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے متعدد بار ڈیزائن میں بہتری لائی گئی تاکہ مطلوبہ معیار حاصل کیا جا سکے۔ جدید کاربن فائبر مواد کی تیاری میں ریسرچرز نے اہم کردار ادا کیا، جس سے راکٹ کو ساختی مضبوطی فراہم کی گئی۔
لانچ سے قبل کنٹرول، ہائیڈرولک اور ٹیلی میٹری سسٹمز کی بارہا جانچ کی گئی، جبکہ راکٹ موٹر کے زمینی ٹیسٹ اور لانچ پیڈ کے ساتھ انضمام کے مختلف مراحل سے بھی گزارا گیا۔
ماہرین کے مطابق ٹیلی میٹری سسٹم راکٹ کے "دماغ” کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے تمام اجزاء کے درمیان رابطہ برقرار رکھا جاتا ہے، جبکہ اگنیشن ٹائمنگ کے لیے چند سیکنڈز کی درست ہم آہنگی انتہائی اہم تھی۔
راکٹ کی بحفاظت واپسی اس مشن کا اہم ترین مرحلہ تھا تاکہ پرواز کے دوران حاصل ہونے والا ڈیٹا محفوظ کیا جا سکے اور کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔
تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی مستقبل میں بلند پروازوں، بڑے پے لوڈز اور بالآخر چھوٹے سیٹلائٹس کے لانچ کی صلاحیت کے حصول کی جانب پہلا اہم قدم ہے، جو ملکی خلائی پروگرام کے لیے ایک نئی بنیاد فراہم کرے گا۔







