
خلیج اردو
شارجہ کے علاقے مویلہ میں ایک افسوسناک حادثے میں ایک چھوٹے بچے کی موت کے بعد اس کے والدین نے ڈرائیور کو معاف کر دیا ہے اور کہا کہ "کچھ بھی ہمارے بچے کو واپس نہیں لا سکتا”۔
2015 میں ترکی کے ساحل پر شامی بچے Alan Kurdi کی لاش کے منظر نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ دبئی کے رہائشی Sherafudheen نے اپنے بیٹے کا نام Alan رکھا، جو حال ہی میں ایک حادثے میں مویلہ میں جاں بحق ہوا۔
والدین نے بتایا کہ ڈرائیور، جو ایک بھارتی شہری ہیں، کے خلاف انہوں نے کوئی شکایت درج نہیں کرائی اور اسے معاف کر دیا ہے۔ شرف الدین نے کہا، "یہ کوئی جان بوجھ کر نہیں ہوا، ایک افسوسناک واقعہ تھا جس میں سب کی توجہ میں معمولی کمی رہی۔ ڈرائیور کو سزا دینے سے ہمارا بچہ واپس نہیں آئے گا۔ ہم آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
حادثہ اس وقت پیش آیا جب شرف الدین کی اہلیہ بچے کو اپارٹمنٹ سے نیچے لے کر کچرا ڈالنے گئی تھیں۔ بچے کھیلتے ہوئے ایک دوسری گاڑی کے سامنے دوڑ پڑے اور حادثاتی طور پر ڈرائیور کی گاڑی سے ٹکرا گئے۔ شرف الدین نے بتایا، "یہ لمحاتی توجہ کی کمی تھی جس نے ہمارا پورا جہان تہس نہس کر دیا۔ میں امید کرتا ہوں کہ لوگ سڑکوں پر زیادہ محتاط رہیں۔”
چھوٹے Alan کی عمر ایک سال اور نو ماہ تھی۔ وہ والدین کا اکلوتا بچہ تھا اور والدین نے بتایا کہ وہ فی الحال بھارت میں ہیں لیکن مستقبل میں دوبارہ متحدہ عرب امارات واپس آنا چاہتے ہیں۔ شرف الدین نے کہا، "ہم نے قبول کر لیا ہے کہ Alan ہمارے ساتھ نہیں رہا، اور ہم مدد حاصل کر رہے ہیں۔ جلد ہی دوبارہ دبئی آئیں گے تاکہ زندگی آگے بڑھا سکیں۔







