
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے حکام نے رمضان المبارک کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے آن لائن بھیک مانگنے کے بڑھتے ہوئے فراڈ سے متعلق خبردار کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جعلی طبی ایمرجنسیز، ہسپتال کی فرضی تصاویر، جعلی میڈیکل رپورٹس اور جذباتی ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کی ہمدردی حاصل کر کے عطیات بٹورنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
بریگیڈیئر علی سالم نے کہا کہ الیکٹرانک بھیک مانگنا ایک جدید ٹیکنالوجی سے جڑا جرم بنتا جا رہا ہے، جس میں اے آئی سے تیار کردہ تصاویر اور ڈیجیٹل مواد کے ذریعے عوامی جذبات کا استحصال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سائبر کرائم یونٹس جدید نگرانی کے نظام اور ڈیجیٹل فرانزک ٹولز کے ذریعے ایسے نیٹ ورکس کا سراغ لگا رہے ہیں۔
حکام نے واضح کیا کہ بغیر سرکاری اجازت کے فنڈ ریزنگ غیر قانونی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
قانونی ماہر محجوب العبید کے مطابق غیر مصدقہ یا جعلی دستاویزات کے ذریعے عطیات جمع کرنا سنگین جرم ہے، جس پر قید اور بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عطیات صرف مستند اور لائسنس یافتہ فلاحی اداروں کے ذریعے ہی دیں تاکہ حقیقی مستحقین کی مدد کو یقینی بنایا جا سکے۔







