
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے نجی اسکولوں میں مصنوعی ذہانت اب محض نظریہ نہیں رہی بلکہ تدریسی عمل کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ کئی اسکول طلبہ کو اسائنمنٹس اور ہوم ورک کیلئے جنریٹو اے آئی ٹولز استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں، بشرطیکہ معلومات کی تصدیق اور درست حوالہ دیا جائے۔
نگرانی میں استعمال کیلئے منظور شدہ پلیٹ فارمز میں ChatGPT، Gemini، Claude، Leonardo AI اور Gizmo AI شامل ہیں۔ تاہم ماہرین تعلیم کے مطابق اصل تبدیلی بچوں میں تنقیدی سوچ اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینا ہے۔
Dubai Schools Al Khawaneej کے پرنسپل جیمی ایفرڈ کے مطابق اسکول اے آئی کو تعلیم پر مرکوز اور محتاط انداز میں متعارف کرا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہماری توجہ صرف ٹولز تک رسائی نہیں بلکہ اے آئی لٹریسی، تنقیدی سوچ اور ذمہ دارانہ استعمال پر ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ Knowledge and Human Development Authority (KHDA) کی جانب سے فی الحال منظور شدہ پلیٹ فارمز کی کوئی مرکزی فہرست جاری نہیں کی گئی، اس لیے اسکول خود جائزہ لے کر پلیٹ فارمز منتخب کرتے ہیں۔
دبئی برٹش اسکول جمیرہ پارک میں ڈیجیٹل لرننگ لیڈ برینڈن اوونز کے مطابق محدود اور محفوظ پلیٹ فارمز استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں Microsoft Copilot (محفوظ مائیکروسافٹ 365 ماحول میں)، چیٹ جی پی ٹی صرف عملے کیلئے، اور دیگر تعلیمی ٹولز شامل ہیں۔ طلبہ کی رسائی ہمیشہ اساتذہ کی نگرانی میں ہوتی ہے۔
عجمان میں Woodlem British School کی پرنسپل نتالیہ سویتنک کے مطابق اسکول اے آئی کو جوش کے بجائے ذمہ داری سے متعارف کرا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف وہی پلیٹ فارمز استعمال ہوتے ہیں جو یو اے ای کے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے مطابق ہوں اور طلبہ کا ذاتی ڈیٹا کسی اوپن سسٹم میں درج نہیں کیا جاتا۔
پرائمری سطح پر اے آئی مکمل طور پر ٹیچر لیڈ ہوتی ہے جبکہ بڑی جماعتوں کے طلبہ کو بتدریج پرامپٹس، تعصب (بائس) اور فیکٹ چیکنگ کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق مقصد سہولت نہیں بلکہ ڈیجیٹل لٹریسی اور اخلاقی شعور کو فروغ دینا ہے۔
Central Board of Secondary Education (CBSE) کی جانب سے نویں جماعت میں اے آئی کو اختیاری مضمون بنانے کے بعد یو اے ای میں بھارتی نصاب کے اسکولوں میں بھی طلبہ ٹیکنالوجی کو نہ صرف استعمال کر رہے ہیں بلکہ اس کے سماجی اور اخلاقی پہلوؤں پر سوال بھی اٹھا رہے ہیں۔
Springdales School Dubai کے پرنسپل ڈیوڈ جونز کے مطابق اے آئی اساتذہ کیلئے معاون نظام ہے، متبادل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اے آئی معلومات پراسیس کر سکتی ہے، مگر بچے کے جذبات، محرکات اور ذاتی حالات کو سمجھنا انسانی فہم ہی کا کام ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یو اے ای میں تعلیمی ادارے اے آئی کو اپنانے کے ساتھ ساتھ طلبہ کے تحفظ اور اخلاقی تربیت کو بھی اولین ترجیح دے رہے ہیں۔







