متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں خطرناک سوشل میڈیا چیلنجز پر والدین کو انتباہ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں تعلیمی اور صحت کے حکام نے والدین اور اسکولوں کو خبردار کیا ہے کہ خطرناک جسمانی چیلنجز، جیسے ’چوکنگ گیم‘ اور ’اسکل بریکر چیلنج‘ دوبارہ بچوں اور نوجوانوں میں مقبول ہو رہے ہیں، جو سنگین زخمی ہونے یا جان لیوا نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔

Dubai Health Authority اور Knowledge and Human Development Authority نے مشترکہ طور پر والدین کے لیے ورچوئل آگاہی سیشن کا انعقاد کیا تاکہ آن لائن رجحانات اور ہم عمر دباؤ سے جڑے خطرناک رویوں کی بروقت نشاندہی اور روک تھام کی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق ’اسکل بریکر چیلنج‘ میں کسی طالب علم کو جان بوجھ کر گرا دیا جاتا ہے، جس سے سر، ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کو شدید چوٹ لگ سکتی ہے۔ اسی طرح سانس روکنے یا گلا دبانے جیسے رجحانات چند منٹ میں دماغ کو آکسیجن کی کمی کا شکار کر کے مستقل نقصان یا موت کا باعث بن سکتے ہیں۔

امریکی ادارے National Centre for Health Research کے مطابق آکسیجن کی کمی کے صرف تین منٹ میں دماغی خلیات متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ ماضی میں ایسے کھیلوں سے درجنوں اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 9 سے 16 سال کی عمر کے دوران سوشل میڈیا کا استعمال بڑھتا ہے، جس سے خطرناک مواد تک رسائی بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ہم عمر دباؤ اور زیادہ لائکس حاصل کرنے کی خواہش بچوں کو ایسے خطرات کی طرف مائل کر سکتی ہے۔

یو اے ای کے اسکولوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ڈیجیٹل سیفٹی پروگرام، آگاہی سیشنز اور طلبہ کی رہنمائی کے اقدامات شروع کیے ہیں۔ بعض تعلیمی اداروں کا کہنا ہے کہ "جو حرکت کسی کی جان یا صحت کو خطرے میں ڈالے، وہ مذاق نہیں بلکہ سنگین مسئلہ ہے”۔

ڈاکٹروں نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ اگر بچوں کی آنکھیں سرخ ہوں، گردن پر غیر معمولی نشانات ہوں، بار بار سر درد یا چکر کی شکایت ہو تو اسے سنجیدگی سے لیں۔ بچوں سے کھل کر بات کرنا، آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور اعتماد کا ماحول قائم کرنا سب سے مؤثر حفاظتی اقدامات قرار دیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق خوف پیدا کرنے کے بجائے آگاہی اور مکالمہ ہی بچوں کو محفوظ رکھنے کا بہترین راستہ ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button