
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ تعلیم متحدہ عرب امارات نے آئندہ تین تعلیمی سالوں کیلئے نیا اکیڈمک کیلنڈر جاری کر دیا ہے جس کے تحت 2026 سے 2029 تک سرمائی تعطیلات کو ایک ماہ سے کم کر کے تین ہفتے کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں کو طویل المدتی وضاحت فراہم کرنا اور ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی ذہنی و جسمانی بہتری کو بھی فروغ دے سکے۔
نئے منصوبے کے تحت نہ صرف سرمائی تعطیلات کم کی گئی ہیں بلکہ اسپرنگ بریک کو ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے، مڈٹرم بریکس میں بھی تبدیلی کی گئی ہے جبکہ تعلیمی سال کا آغاز معمول سے کچھ دیر بعد ہو گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے تعلیمی تسلسل بہتر ہوگا اور طلبہ کو ایک متوازن روٹین میسر آئے گی۔
تاہم والدین اس فیصلے پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ والدین کے نزدیک تین ہفتے کی تعطیلات بچوں کیلئے آرام اور معمول کے درمیان ایک مناسب توازن فراہم کریں گی جبکہ دیگر اب بھی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ان تبدیلیوں سے سفری منصوبوں، امتحانات کی تیاری اور خاندانی وقت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
کام کرنے والے والدین کا کہنا ہے کہ طویل تعطیلات اکثر بچوں کے تعلیمی شیڈول کو متاثر کرتی ہیں اور انہیں دوبارہ اسکول روٹین میں لانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک ماہ کی چھٹی کے دوران بچوں کو مصروف رکھنا نہ صرف جذباتی بلکہ مالی اور انتظامی طور پر بھی چیلنج بن جاتا ہے جبکہ طویل وقفے سے تعلیمی نقصان کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
دوسری جانب بعض والدین، خصوصاً بڑی جماعتوں کے طلبہ کے والدین، کا ماننا ہے کہ سرمائی تعطیلات میں ایک ہفتے کی کمی بورڈ امتحانات کی تیاری کیلئے دستیاب قیمتی وقت کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہی وہ عرصہ ہوتا ہے جب طلبہ بغیر کسی تعلیمی دباؤ کے اپنی تیاری پر مکمل توجہ دے سکتے ہیں۔
بیرونِ ملک مقیم کئی خاندان سرمائی تعطیلات کو اپنے آبائی ممالک جانے اور کرسمس کے موقع پر اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کیلئے استعمال کرتے ہیں، اس لیے مختصر تعطیلات ان کے خاندانی منصوبوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی بیک وقت سہولت اور چیلنج دونوں پہلو رکھتی ہے اور اس کے حقیقی اثرات کا اندازہ آنے والے تعلیمی سالوں میں ہی ہو سکے گا کہ آیا یہ فیصلہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور خاندانی توازن کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔







