خفیہ کوڈ چوری کرنے کے جرم میں جیل اور پانچ لاکھ درہم تک جرمانہ۔
متحدہ عرب امارات انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر خبر دار کیا ہے کہ کسی کے خفیہ کوڈ چوری کر کے استعمال کرنا قانونی جرم ہے جو آپ کو جیل بھیج سکتی ہے اور دو لالھ درہم سے پانچ لاکھ درہم تک جرمانہ بھی ادا کرنا پڑھے گا۔
قانونی اعتبار سے کسی کا خفیہ کوڈ معلوم کر کے استعمال کرنا ایک سنگین جرم ہے ۔ جو افراد اس جرم میں ملوث پائے گئے ان پر دو لاکھ سے پانچ لاکھ درہم تک جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے ۔ اس جرمانہ کا اطلاق ہر اس شخص پر ہوگا جو کسی کا خفیہ کوڈ یا نمبر چوری کر کے اپنے استعمال میں لائے گا۔ وکیل استغاثہ نے کہا کہ یہ ضروری نہیں کہ کس طریقہ سے خفیہ کوڈ یا نمبر کسی شخص کے استعمال میں آیا مگر اس کے خلاف سائبر کرائم قوانین کے آرٹیکل 14 اور وفاقی فیصلہ نمبر 5، 2012 کے مطابق
کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وفاقی وکیل استغاثہ نے اس سے بھی خبر دار کیا کہ کسی کی تصویریں ڈاون لوڈ کرکے اپنے پاس رکھنا اور اس کہ کاپیاں بنانا بھی جرم ہے لہذا سوشل میڈیا پر کسی اور کی تصویروں شئیر کرنے سے بھی اجتناب کرے ۔ یہ بھی ایک سنگین جرم ہے جس کے بدلے کم ازکم چھ مہینے قید اور ایک لاکھ پچاس ہزار درہم سے لے کر پانچ لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔
Source:Gulf News







