
خلیج اردو
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیشِ نظر اماراتی اسکولوں نے عارضی طور پر فاصلاتی تعلیم اختیار کر لی، حکام نے طلبہ کی سلامتی اور ذہنی سکون کو اولین ترجیح قرار دیا۔
شارجہ
مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں متحدہ عرب امارات کے تعلیمی اداروں نے دو سے چار مارچ تک احتیاطی تدابیر کے طور پر فاصلاتی تعلیم کا آغاز کر دیا ہے تاکہ طلبہ کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور تعلیمی سلسلہ بھی جاری رہے۔
تعلیمی منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے میں صرف تعلیمی سرگرمیوں ہی نہیں بلکہ طلبہ کی ذہنی اور جذباتی کیفیت پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ کم عمر بچوں، خصوصاً کنڈرگارٹن سے جماعت پنجم تک کے طلبہ کیلئے اضافی رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے کیونکہ وہ علاقائی کشیدگی سے متعلق خبروں کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہو سکتے ہیں۔
پرموڈ مہاجن، پرنسپل شارجہ انڈین اسکول نے بتایا کہ "اساتذہ آن لائن جماعتوں کا آغاز طلبہ کو یہ یقین دہانی کرا کے کر رہے ہیں کہ وہ محفوظ ہیں اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں”۔ ان کے مطابق تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسکول کے ماہرِ نفسیات نے والدین کیلئے ایک رہنما دستاویز تیار کی ہے جس میں بچوں کو جنگ سے متعلق نشریات سے دور رکھنے، رویّوں میں تبدیلی پر نظر رکھنے اور گھر میں پُرسکون ماحول قائم رکھنے کی ہدایات شامل ہیں۔
دوسری جانب نکولس برین، نائب انتظامی صدر و سربراہ جمیرا کالج دبئی نے کہا کہ "ہم تمام پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، ہر فیصلہ طلبہ کی سلامتی اور فلاح کو سامنے رکھ کر کیا جا رہا ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ والدین اور طلبہ کو اسکول کے نظام الاوقات یا دیگر امور میں کسی بھی تبدیلی سے بروقت آگاہ کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی تسلسل برقرار رکھا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر امتحانی شیڈول میں مناسب ردوبدل کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو ذہنی دباؤ کا سامنا نہ ہو۔
متحدہ عرب امارات کے بڑے نجی تعلیمی گروپ جیمز ایجوکیشن نے بھی کہا ہے کہ ان کے ڈیجیٹل نظام اور ہنگامی حکمتِ عملی پہلے سے موجود ہے جس کی بدولت روایتی اور فاصلاتی تعلیم کے درمیان منتقلی بآسانی ممکن ہے۔
سیما عمر، پرنسپل ڈیوویل اسکول دبئی نے بتایا کہ فاصلاتی تعلیم براہِ راست آن لائن نشستوں کے ذریعے دی جا رہی ہے جبکہ ریکارڈ شدہ اسباق اور مشقیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ خاندانوں کو لچک میسر رہے۔
تعلیمی رہنماؤں کا متفقہ پیغام یہ ہے کہ "بڑے حالات پر قابو رکھے ہوئے ہیں، طلبہ محفوظ ہیں اور تعلیم کا سلسلہ جاری رہے گا”۔ ماہرین کے مطابق منظم حکمتِ عملی اور مستقل رابطہ اس نازک مرحلے میں طلبہ اور والدین کیلئے اعتماد اور استحکام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔







