
خلیج اردو
علاقائی کشیدگی اور خبروں میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کے باعث دبئی سمیت متحدہ عرب امارات میں بہت سے والدین کو اپنے بچوں کے مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سکولوں میں آن لائن تعلیم شروع ہونے اور موسمِ بہار کی تعطیلات کی تاریخ تبدیل ہونے کے بعد بچوں میں مزید سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
بچے اپنے والدین سے پوچھ رہے ہیں: “کیا ہم محفوظ ہیں؟” “یہ آوازیں کیا آتش بازی ہیں؟” اور “سکول دوبارہ کب کھلیں گے؟” ایسے سوالات نے والدین کے لیے صورتحال کو سمجھانا مزید مشکل بنا دیا ہے۔
دبئی میں فورٹس ایجوکیشن کے ڈائریکٹر تعلیم ڈاکٹر نیل ہوپکن کے مطابق بچوں کو سب سے پہلے جذباتی طور پر محفوظ محسوس کرانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا: “بچوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ محفوظ ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے خدشات کو نظر انداز کرنے کے بجائے انہیں سچائی اور اعتماد کے ساتھ صورتحال سمجھائیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بچے اکثر کسی ایک تصویر یا آواز سے پوری کہانی اپنے ذہن میں بنا لیتے ہیں، اس لیے بڑوں کی رہنمائی بہت ضروری ہے۔
اسی دوران دبئی میں مقیم والدہ گرلین اروڑا نے بتایا کہ وہ اپنی 16 سالہ بیٹی کے ساتھ موجودہ صورتحال پر مسلسل بات کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق: “بچے ہماری توقع سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں۔ وہ خبریں پڑھتے ہیں اور ایماندار جواب چاہتے ہیں۔ میں اسے یاد دلاتی ہوں کہ یہ بھی ایک عارضی مرحلہ ہے، جیسے کورونا تھا اور وہ بھی گزر گیا۔”
چھوٹے بچوں کے والدین کو بھی اسی طرح کے سوالات کا سامنا ہے۔ ایلینا روسو کے مطابق ان کا دس سالہ بیٹا بار بار پوچھتا ہے کہ کیا وہ باہر جا کر کھیل سکتا ہے اور کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سادہ الفاظ میں بتاتی ہیں کہ کچھ دن احتیاط ضروری ہے۔
تعلیم اور نفسیات کے ماہرین کے مطابق بچوں کے سوال دراصل معلومات سے زیادہ تسلی کی تلاش ہوتے ہیں۔ ووڈلم پارک نجی سکول کی ماہر تعلیم انیتھا بلیسی روزاریو کے مطابق: “بچوں کو سب سے زیادہ ضرورت ایک پرسکون اور اعتماد دینے والے بڑے کی موجودگی کی ہوتی ہے۔”
ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گھریلو معمولات برقرار رکھیں، خبریں محدود دیکھیں اور بچوں کے ساتھ کھل کر بات کریں۔ ان کے مطابق پرسکون اور پراعتماد والدین بچوں کے لیے سب سے بڑی تسلی کا باعث بنتے ہیں۔







