
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے عراق کے کردستان خطے میں اپنے قونصل خانے پر ہونے والے ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بلااشتعال دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے۔
اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق حملہ کردستان کے علاقے میں قائم متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے کو نشانہ بنا کر کیا گیا جس کے نتیجے میں عمارت کو مادی نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ عراق کی وفاقی حکومت اور کردستان کی علاقائی حکومت اس واقعے کی مکمل تحقیقات کریں اور اس حملے کے پس منظر اور ذمہ دار عناصر کا تعین کریں۔
امارات نے دونوں حکومتوں پر زور دیا کہ حملے میں ملوث افراد کی نشاندہی کر کے انہیں قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
بیان میں کہا گیا کہ سفارتی مشنز اور ان کی عمارتوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور سفارتی تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق سفارتی عمارتوں اور سفارتی عملے کا تحفظ بین الاقوامی قانون کے تحت یقینی بنایا جاتا ہے اور ایسے حملے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات اس طرح کے حملوں کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور عالمی قوانین کے مطابق سفارتی مشنز، عمارتوں اور عملے کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے دوران سفارتی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات علاقائی سلامتی کے لیے نئے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔







