
خلیج اردو
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پروازوں کی منسوخی اور فضائی حدود کی بندش کے بعد متحدہ عرب امارات میں ہزاروں مسافر پھنس گئے، جس پر ملک کی رئیل اسٹیٹ اور ہالیڈے ہوم کمپنیوں نے انسانیت کی مثال قائم کرتے ہوئے مفت رہائش فراہم کرنا شروع کر دی۔
اماراتی کمپنی پیس ہومز ڈیولپمنٹ ان اداروں میں شامل ہے جنہوں نے سب سے پہلے اس مشکل صورتحال میں مدد کا اعلان کیا۔ کمپنی کے چیئرمین احسن رشید کے مطابق فضائی حدود بند ہونے کے باعث بہت سے سیاح اپنے ملک واپس نہیں جا سکے، اس لیے کمپنی نے سینکڑوں مسافروں کو مفت رہائش فراہم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں دو ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں اور مدد کا دائرہ مزید بڑھایا جا رہا ہے۔
احسن رشید نے کہا کہ کمپنی نے یہ اقدام کسی کے کہنے پر نہیں کیا بلکہ ملک اور اس کی قیادت سے محبت کے جذبے کے تحت ضرورت کے وقت مدد کرنا اپنی ذمہ داری سمجھا۔
دوسری جانب معروف رئیل اسٹیٹ کمپنی ڈینیوب گروپ نے بھی اپنے اپارٹمنٹس مسافروں کے لیے کھول دیے۔ کمپنی کے بانی اور چیئرمین رضوان ساجن کے مطابق اس بحران کے دوران دبئی میں پھنسے افراد کو مفت رہائش فراہم کرنا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ کوئی بھی شخص خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک چھ سو سے زائد افراد کو رہائش فراہم کی جا چکی ہے جبکہ مزید ضرورت مندوں کی مدد بھی جاری ہے۔ کمپنی کے مطابق خاندانوں اور بزرگ افراد کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر ہوٹل میں قیام کا بندوبست بھی کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح ہالیڈے ہوم رینٹل پلیٹ فارم لِو جازا کے مطابق اس کے نیٹ ورک میں شامل سو سے زائد آپریٹرز نے پھنسے ہوئے مسافروں کے لیے کرائے کم کر دیے یا مفت راتیں فراہم کیں، جبکہ پلیٹ فارم فیس بھی ختم کر دی گئی جس سے رہائش کی قیمتیں پندرہ سے بیس فیصد تک کم ہو گئیں۔
ایراس ویکیشن ہوم رینٹل نامی کمپنی نے بھی کئی خاندانوں کو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں چالیس سے پچاس فیصد کم قیمت پر کمرے فراہم کیے تاکہ انہیں مالی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے سیاح مائیکل کریپن نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے اور اہل خانہ کے ساتھ دبئی آئے تھے مگر پروازیں منسوخ ہونے کے باعث واپس نہ جا سکے۔ ان کے مطابق رہائش کی قیمتیں بڑھنے اور پروازوں کی مسلسل تبدیلی کے باعث صورتحال بہت مشکل ہو گئی تھی، تاہم مقامی کمپنیوں کی مدد سے انہیں مناسب رہائش مل گئی۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں اماراتی کمپنیوں کی جانب سے پھنسے ہوئے مسافروں کی مدد متحدہ عرب امارات کی مہمان نوازی اور انسانی ہمدردی کی روایات کی عکاسی کرتی ہے۔







