
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں آج رمضان المبارک کا آخری جمعہ ادا کیا جا رہا ہے، جو اسلامی سال کے روحانی طور پر سب سے اہم دنوں میں شمار ہوتا ہے۔
اسلام میں رمضان کو سب سے مقدس مہینہ اور جمعہ کو ہفتے کا سب سے بابرکت دن سمجھا جاتا ہے۔ جب یہ دونوں آخری دنوں میں اکٹھے ہو جائیں تو مسلمان عبادات، دعا اور صدقہ و خیرات میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔
ملک بھر کی مساجد میں آج جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں نمازیوں کی آمد متوقع ہے، کیونکہ رمضان کے آخری ایام کو عبادت میں اضافہ اور مغفرت طلب کرنے کا بہترین وقت سمجھا جاتا ہے۔
رمضان کے آخری دس دنوں کو سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ انہی راتوں میں شبِ قدر ہونے کا یقین کیا جاتا ہے۔ قرآن میں اس رات کو “ہزار مہینوں سے بہتر” قرار دیا گیا ہے اور اس میں کی جانے والی عبادات کو بے حد اجر و ثواب کا باعث بتایا گیا ہے۔
آج کے جمعہ کے خطبے میں بھی مسلمانوں کو رمضان کے باقی ماندہ دنوں اور راتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور شبِ قدر کی تلاش کے لیے دعا، ذکر اور عبادت بڑھانے کی تلقین کی جائے گی۔
خطبے میں یہ بھی یاد دلایا جائے گا کہ یہی وہ رات ہے جب قرآن مجید پہلی مرتبہ نازل ہوا تھا، اس لیے مسلمانوں کو ان دنوں میں عبادت اور تقویٰ میں اضافہ کرنا چاہیے۔
اس کے ساتھ خطبے میں مشکلات کے وقت صبر اور ثابت قدمی اختیار کرنے کی تلقین بھی کی جائے گی اور قرآن کے اس پیغام کو دہرایا جائے گا کہ “بے شک تنگی کے ساتھ آسانی بھی ہے۔”
مساجد میں متحدہ عرب امارات، اس کی قیادت اور یہاں رہنے والے تمام لوگوں کی سلامتی، امن اور استحکام کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی جائیں گی۔
ادھر عیدالفطر کی تاریخ کا انحصار چاند دیکھنے پر ہوگا۔ امارات کی رویتِ ہلال کمیٹی 18 مارچ بروز بدھ کو رمضان کے 29ویں دن چاند دیکھنے کی کوشش کرے گی۔
اگر اس شام چاند نظر آ گیا تو عیدالفطر جمعرات 19 مارچ کو ہوگی، جبکہ چاند نظر نہ آنے کی صورت میں رمضان 30 دن مکمل کرے گا اور عید جمعہ 20 مارچ کو منائی جائے گی۔
ماہرین فلکیات کے مطابق اس سال رمضان کے 30 دن مکمل ہونے کا امکان زیادہ ہے، جس کی صورت میں عیدالفطر 20 مارچ کو منائے جانے کی توقع ہے۔







