
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ایران کے حالیہ حملوں کے دوران سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد پھیلانے کے الزام میں درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں جھوٹی معلومات اور افواہوں کو روکنے کے لیے کی جا رہی ہیں جو عوامی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہیں۔
پندرہ مارچ کو متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل ڈاکٹر حمد سیف الشمسی نے مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے پچیس افراد کی گرفتاری کا حکم دیا اور انہیں فوری سماعت کے لیے عدالتوں کے حوالے کر دیا۔ اس سے ایک روز قبل دس افراد کو بھی جعلی اور گمراہ کن ویڈیوز شیئر کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق ان ویڈیوز میں دھماکوں، اہم مقامات پر حملوں اور ملک بھر میں آگ لگنے کے من گھڑت مناظر دکھائے گئے تھے۔ دوسری جانب ابو ظہبی پولیس نے پینتالیس افراد کو اس الزام میں گرفتار کیا کہ انہوں نے جاری صورتحال کے دوران مختلف مقامات کی ویڈیوز بنا کر غلط معلومات کے ساتھ آن لائن شیئر کیں جس سے افواہیں پھیل سکتی تھیں۔
حکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں تین طرح کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی۔ پہلی قسم میں میزائلوں کے گزرنے، انہیں روکنے یا اس کے بعد کے مناظر کی اصل ویڈیوز شیئر کرنا شامل ہے جن کے ساتھ ایسا تبصرہ یا آوازیں شامل کی جاتی تھیں جو خوف و ہراس پیدا کر سکتی تھیں یا دفاعی صلاحیتوں کو ظاہر کر سکتی تھیں۔
دوسری قسم میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ یا تبدیل شدہ ویڈیوز شامل تھیں جن میں دھماکوں یا میزائل حملوں کے مناظر دکھائے گئے یا بیرونِ ملک کے واقعات کی ویڈیوز کو امارات کا واقعہ ظاہر کر کے پھیلایا گیا۔
تیسری خلاف ورزی ایسے مواد کی تھی جس میں مخالف ریاست اور اس کی قیادت کی تعریف کی گئی اور اس کی فوجی کارروائیوں کو کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہوئے آن لائن پروپیگنڈا پھیلایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بحران کے آغاز سے ہی شہریوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ حملوں کی جگہوں کی ویڈیوز بنانے، میزائلوں کو روکنے کے مناظر شیئر کرنے یا غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں۔ اٹھائیس فروری کو جب ایران نے امارات کو نشانہ بنایا تو سرکاری استغاثہ نے بھی افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلانے کے خلاف سخت وارننگ جاری کی تھی۔
حکام کے مطابق قانون صرف جھوٹا مواد بنانے والوں پر ہی نہیں بلکہ اسے شیئر یا دوبارہ پوسٹ کرنے والوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے خبردار کیا کہ عوامی سلامتی کو نقصان پہنچانے، خوف و ہراس پھیلانے یا معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے والی غلط معلومات پھیلانے پر کم از کم ایک سال قید اور کم از کم ایک لاکھ درہم جرمانہ ہو سکتا ہے۔
دبئی پولیس نے بھی خبردار کیا ہے کہ سرکاری اعلانات کے برعکس افواہیں یا گمراہ کن خبریں پھیلانے، یا ایسا مواد شائع کرنے جس سے خوف و ہراس پیدا ہو یا عوامی سلامتی متاثر ہو، اس پر قید کے ساتھ کم از کم دو لاکھ درہم جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
چھ مارچ کو اٹارنی جنرل نے عوام کو یہ بھی ہدایت دی تھی کہ میزائلوں یا ان کے ٹکڑوں کے گرنے سے ہونے والے نقصانات کی تصاویر اور ویڈیوز بنانا یا شیئر کرنا ممنوع ہے کیونکہ اس سے عوام میں خوف پیدا ہو سکتا ہے اور حکام کی کارروائی متاثر ہو سکتی ہے۔
پولیس حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی خبر یا ویڈیو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں کیونکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بعض تصاویر اور ویڈیوز بظاہر حقیقی دکھائی دیتی ہیں لیکن درحقیقت ڈیجیٹل طور پر تیار کی جاتی ہیں۔
حکام کے مطابق غلط معلومات بعض اوقات غلط ہاتھوں تک پہنچ سکتی ہیں اور کمیونٹی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں، اس لیے عوام کو صرف سرکاری اعلانات پر اعتماد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔







