متحدہ عرب امارات

غزہ، سوڈان اور شام میں جنگ کا سامنا کرنے والے اماراتی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود متحدہ عرب امارات خود کو محفوظ ترین جگہ محسوس ہوتی ہے

خلیج اردو
خطے میں حالیہ کشیدگی کے باوجود متحدہ عرب امارات میں رہنے والے وہ افراد جنہوں نے پہلے جنگ زدہ علاقوں میں زندگی گزاری ہے، کہتے ہیں کہ امارات میں حالات اب بھی پُرسکون اور محفوظ ہیں۔ ان کے مطابق جنگ کا حقیقی تجربہ رکھنے والے لوگوں کے لیے موجودہ صورتحال اتنی خوفناک محسوس نہیں ہوتی۔

متحدہ عرب امارات میں رہنے والے کئی غیر ملکی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہاں روزمرہ زندگی تقریباً معمول کے مطابق جاری ہے۔ اگرچہ کبھی کبھار دفاعی نظام کی کارروائیوں یا انتباہی پیغامات سے بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، لیکن مجموعی طور پر حالات پرامن ہیں۔

سوڈان کی خانہ جنگی سے نکل کر امارات آنے والی آیا الہادی نے بتایا کہ حالیہ کشیدگی کے ابتدائی دنوں میں انہیں ماضی کی تلخ یادیں یاد آ گئیں۔ ان کے مطابق جب اپنے گھر کے قریب دفاعی کارروائیوں کی آواز سنائی دیتی ہے تو وہ انہیں سوڈان کے دن یاد دلا دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوڈان میں صورتحال کہیں زیادہ خوفناک تھی جہاں ان کے پڑوسی کے گھر پر بمباری ہوئی، سڑکوں پر مسلح افراد موجود تھے اور لوٹ مار کے واقعات بھی عام تھے۔ ان کے خاندان کو پہلے قریبی علاقے میں پناہ لینا پڑی اور بعد میں مصر کی سرحد تک طویل اور مشکل سفر کرنا پڑا۔

ان کے مطابق عام طور پر ایک گھنٹے کا سفر کئی گھنٹوں میں تبدیل ہو گیا جبکہ مصر کی سرحد تک پہنچنے میں پانچ گھنٹے کے بجائے پانچ دن لگے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران پورا خاندان ایک ہی کمرے میں خوف کے عالم میں رہتا تھا کیونکہ باہر نکلنا بھی خطرناک تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ماضی کی یادیں اب بھی ذہن میں موجود ہیں، مگر وہ امارات کو دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک سمجھتی ہیں جہاں حکومت اور ادارے ہر صورتحال کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔

غزہ میں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزارنے والی مارلین الحدّاد نے بھی کہا کہ امارات اور جنگ زدہ علاقوں کی زندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ان کے مطابق یہاں کبھی کبھار کچھ آوازیں سنائی دیتی ہیں لیکن وہ غزہ کی طرح شدید نہیں ہوتیں جہاں ہر وقت بمباری کا خطرہ رہتا تھا اور محفوظ پناہ گاہیں بھی موجود نہیں تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ غزہ سے سات بچوں کے ساتھ نکلنا انتہائی مشکل تھا۔ سرحدوں پر طویل قطاریں تھیں، بار بار سامان کی تلاشی لی جاتی تھی اور سفر ذہنی اور جسمانی طور پر بہت تھکا دینے والا تھا۔

ان کے مطابق امارات میں زندگی نسبتاً معمول کے مطابق جاری ہے اور ان کی اٹھارہ سالہ بیٹی، جو پہلے بھی غزہ کی جنگ دیکھ چکی ہے، موجودہ صورتحال کو اس کے مقابلے میں بہت کم خطرناک قرار دیتی ہے۔

شارجہ میں مقیم ماجد علی الخطیب نے بھی شام کے دارالحکومت دمشق سے اپنے خاندان کی ہجرت کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ان کے خاندان کو شدید خوف اور بمباری کے ماحول میں لبنان کے راستے سفر کرنا پڑا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ عام طور پر تین گھنٹے کا سفر سولہ گھنٹوں میں تبدیل ہو گیا تھا جبکہ راستے میں فوجی چوکیوں اور مسلسل خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے گھر سے صرف سو میٹر کے فاصلے پر بمباری کے واقعات بھی دیکھے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ امارات میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ ان کے مطابق انہیں اور ان کے بچوں کو کوئی خاص خوف محسوس نہیں ہوتا کیونکہ انہیں حکومت اور سکیورٹی اداروں پر مکمل اعتماد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدا میں حفاظتی انتباہی پیغامات سن کر کچھ گھبراہٹ ہوئی مگر بعد میں سمجھ آ گیا کہ یہ سب شہریوں کی حفاظت کے لیے کیے جا رہے اقدامات ہیں اور یہاں کی صورتحال ان کے آبائی ملک کے تجربات سے بالکل مختلف ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button