متحدہ عرب امارات

مشرق وسطیٰ تنازع کے نام پر 8 ہزار جعلی ویب سائٹس کا انکشاف، شہریوں کی رقم اور ذاتی معلومات کو شدید خطرہ

خلیج اردو
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سائبر جرائم میں خطرناک اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں ماہرین کے مطابق ایک ماہ میں 8 ہزار سے زائد جعلی ویب سائٹس بنائی گئیں جو شہریوں اور کاروباری اداروں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

یو اے ای میں قائم سائبر سکیورٹی ماہر ریاض کمال ایوب کے مطابق 200 سے زائد جعلی ڈومینز نے خلیجی آئل کمپنیوں، بینکوں اور سرکاری اداروں کی ہو بہو نقل تیار کر لی ہے، جس سے لوگوں کی بچت، شناخت اور ذاتی ڈیٹا شدید خطرے میں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "عام شہری ان جعلی ویب سائٹس اور اصلی پلیٹ فارمز میں فرق نہیں کر سکتے، ایک غلط کلک سے پوری جمع پونجی چند منٹوں میں ختم ہو سکتی ہے۔”

یو اے ای سائبر سکیورٹی کونسل نے بھی حالیہ دنوں میں خطرناک میلویئر "وائپر” کے حوالے سے الرٹ جاری کیا، جو ڈیٹا مکمل طور پر مٹا کر سسٹمز کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہیکرز نہ صرف مالی نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ شناختی معلومات، پاسپورٹ ڈیٹا اور خاندانی تفصیلات بھی چرا سکتے ہیں، جو بعد میں جرائم کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔

حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ مشکوک لنکس سے گریز کریں، صرف مستند ویب سائٹس استعمال کریں، سافٹ ویئر اپڈیٹ رکھیں اور بینک یا سرکاری معلومات درج کرنے سے پہلے مکمل تصدیق کریں۔

یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید دور میں سائبر سکیورٹی صرف اداروں ہی نہیں بلکہ ہر فرد کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button