متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں کم عمری کی شادی پر سخت قوانین نافذ، عدالت کی منظوری مزید مشکل، خصوصی کمیٹی اور سخت شرائط کا نفاذ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی سے متعلق قوانین مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جس کے تحت اب عدالتی منظوری کے بغیر کسی بھی کم عمر فرد کی شادی رجسٹر نہیں کی جا سکے گی۔ متحدہ عرب امارات نے نئے قانونی فریم ورک کے تحت نگرانی اور جانچ کے عمل کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔

نئے قوانین کے مطابق اگر کسی خاص صورت میں عدالت اجازت دے بھی دے تو یہ لازمی ہوگا کہ شادی کو نابالغ کے بہترین مفاد میں قرار دیا جائے، جس کیلئے اب پہلے سے زیادہ سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔

اہم تبدیلیوں میں ایک خصوصی جائزہ کمیٹی کا قیام شامل ہے، جو درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لے گی، دونوں فریقین کا انٹرویو کرے گی اور عدالت کو سفارشات پیش کرے گی۔ یہ کمیٹی مالی، طبی، نفسیاتی اور سماجی پہلوؤں پر مشتمل جامع رپورٹ بھی تیار کرے گی۔

مزید برآں درخواست دہندگان کو طبی معائنے، نفسیاتی جائزے، باہمی رضامندی، مالی استطاعت، مناسب رہائش اور مجرمانہ ریکارڈ سے متعلق دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی۔

عدالتی عمل کو بھی مزید سخت بنایا گیا ہے، جس کے تحت فریقین کو کمیٹی کی رپورٹ پر اعتراض کا حق دیا گیا ہے، جبکہ جج کو سفارش سے اختلاف کی صورت میں وجوہات بیان کرنا ہوں گی۔ اس کے علاوہ فیصلے کے خلاف 7 دن کے اندر اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔

قانون کے مطابق مسترد شدہ درخواست دوبارہ جمع کرانے کیلئے کم از کم 6 ماہ انتظار کرنا ہوگا، تاکہ دباؤ یا بار بار درخواستوں کو روکا جا سکے۔

ماہرین قانون کے مطابق یہ اصلاحات نابالغ افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں، اور عالمی معیار کے مطابق 18 سال کو کم از کم عمر برقرار رکھتے ہوئے سخت نگرانی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین سے کم عمری کی شادیوں میں کمی آئے گی اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کو مزید تقویت ملے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button