
خلیج اردو
امریکی عدالت میں ایک تاریخی قانونی معرکے کے بعد جیوری نے میٹا پلیٹ فارمز اور گوگل کو سوشل میڈیا کی لت لگانے کے حوالے سے ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کو ٹیک انڈسٹری کے خلاف ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں کمپنیوں کے ڈیزائن اور صارفین کے تحفظ کے حوالے سے قانونی معیارات بدل سکتا ہے۔
مقدمے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ پلیٹ فارمز کے الگورتھم اور ڈیزائن خصوصاً نوجوان صارفین کو اپنی طرف راغب کرنے اور انہیں مسلسل استعمال کا عادی بنانے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔ یہ ٹرائل اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ اس میں مواد کی بجائے براہِ راست کمپنیوں کی انجینئرنگ اور ڈیزائن کے طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا۔
قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے کی روشنی میں اب دیگر ہزاروں زیرِ التواء مقدمات کے لیے بھی راستہ ہموار ہو گیا ہے، جہاں والدین اور ریگولیٹرز نے ان کمپنیوں پر بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کر رکھے ہیں۔
سماعت کے دوران دیگر سوشل میڈیا ایپس کے حوالے سے بھی بحث کی گئی، تاہم توجہ کا مرکز انسٹاگرام اور یوٹیوب جیسے بڑے پلیٹ فارمز رہے جن کا روزانہ استعمال نوجوانوں میں ایک عالمی رجحان بن چکا ہے۔
حالیہ برسوں میں امریکی ریاستوں اور عالمی سطح پر سوشل میڈیا کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ ٹیک کمپنیاں اب اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن میں ایسی تبدیلیاں لانے پر مجبور ہوں گی جو صارفین کو لت سے بچانے میں مددگار ثابت ہوں۔







