
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات سے فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران 15 سے 25 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود سفر کی مجموعی طلب میں کمی نہیں آئی۔
سیاحت کے ماہر امتیاز حسین ناصر کے مطابق مسافر اب قیمتوں کا زیادہ موازنہ کر رہے ہیں، جلد فیصلے لے رہے ہیں اور سفری تاریخوں میں لچک دکھا رہے ہیں تاکہ مہنگے کرایوں سے بچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سفری خلل کے باعث کئی افراد نے اپنے سفر مؤخر کیے تھے، جو اب دوبارہ بکنگ کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں، جس سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ٹریول کمپنی "مسافر ڈاٹ کام” کی نمائندہ راشدہ زاہد کے مطابق زیادہ تر مسافر 8 سے 10 دن پہلے ٹکٹ بک کر رہے ہیں کیونکہ روانگی سے چند دن پہلے قیمتیں تیزی سے بڑھ جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست پروازیں اب بھی ترجیح ہیں، مگر کم خرچ مسافر اب بالواسطہ راستوں کو بھی اختیار کر رہے ہیں۔
ماہر رینو اسٹیفن کے مطابق اس وقت زیادہ تر پروازیں اماراتی ایئرلائنز جیسے امارات ایئرلائن، اتحاد ایئر ویز اور ایئر انڈیا چلا رہی ہیں، جبکہ بین الاقوامی ایئرلائنز کی محدود دستیابی کے باعث مقابلہ کم اور کرایے زیادہ ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، انشورنس اخراجات اور آپریشنل خطرات بھی فضائی کرایوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ اس کے باوجود کچھ مسافر فوری ضرورت کے تحت مہنگے ٹکٹ خرید رہے ہیں جبکہ دیگر پہلے سے منصوبہ بندی کر کے اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں صورتحال بہتر ہوئی تو کرایوں میں معمولی کمی ممکن ہے، تاہم محدود نشستوں اور زیادہ طلب کے باعث قیمتیں فی الحال بلند رہنے کا امکان ہے۔






