
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں رواں ماہ شہری خوشگوار اور نسبتاً ٹھنڈے موسم سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، جو عام طور پر اپریل کی متوقع گرمی کے برعکس ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال کسی غیر معمولی واقعے کے بجائے موسمیاتی نظام میں قدرتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ مختلف ہوائی دباؤ کے نظام، بدلتی ہوائیں اور بادلوں کی نقل و حرکت اس موسم کو تشکیل دے رہی ہیں۔ مشرق اور مغرب سے آنے والے بادل بعض اوقات آسمان کو ابر آلود بنا دیتے ہیں، جس سے درجہ حرارت میں کمی محسوس ہوتی ہے۔
نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی کے ماہر موسمیات ڈاکٹر احمد حبیب کے مطابق بالائی فضا میں کم دباؤ کے نظام کے باعث بادل مشرق سے آ رہے ہیں، جبکہ مغرب سے بھی بادل داخل ہو رہے ہیں۔ یہ زیادہ تر درمیانی اور بالائی سطح کے بادل ہیں، اس لیے شدید بارش کا امکان کم ہے، تاہم بعض علاقوں میں ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شمال مغربی ہوائیں اس ٹھنڈک میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ہوائیں بعض اوقات تیز ہو کر گردوغبار پیدا کرتی ہیں، حدِ نگاہ کم کرتی ہیں اور سمندر میں طغیانی کا سبب بنتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اندرونی علاقوں میں درجہ حرارت 31 سے 34 ڈگری سینٹی گریڈ اور ساحلی علاقوں میں 28 سے 31 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں درجہ حرارت بتدریج 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔
ڈاکٹر احمد حبیب نے وضاحت کی کہ اپریل دراصل بہار سے گرمی میں منتقلی کا مہینہ ہوتا ہے، اس لیے موسم ہر سال مختلف ہو سکتا ہے۔ شمال سے آنے والی نسبتاً ٹھنڈی ہوا جب جنوب اور مشرق کی گرم اور مرطوب ہوا سے ٹکراتی ہے تو غیر مستحکم مگر خوشگوار موسمی حالات پیدا ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں بادل، تیز ہوائیں اور کہیں کہیں ہلکی بارش کا امکان برقرار رہے گا، تاہم درجہ حرارت بتدریج معمول کے مطابق بڑھنے لگے گا۔







