
خلیج اردو
دبئی کا مشہور برج العرب، جو اپنی منفرد سیل جیسی شکل کے باعث دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے، اب 18 ماہ کی بڑے پیمانے پر بحالی کے عمل سے گزرنے جا رہا ہے۔ اس موقع پر اس عمارت سے جڑے ایسے کئی دلچسپ اور کم معروف حقائق دوبارہ زیر بحث آ گئے ہیں جنہوں نے اسے عالمی سطح پر ایک لگژری آئیکون بنایا۔
برج العرب کی تعمیر کی کہانی صرف ایک عمارت تک محدود نہیں بلکہ یہ دبئی کے عالمی لگژری نقشے پر ابھرنے کی علامت بھی ہے۔ 1990 کی دہائی میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ آج بھی اپنی انجینئرنگ اور ڈیزائن کے باعث دنیا بھر کی توجہ کا مرکز ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس ہوٹل کی بنیاد سمندر میں ایک مصنوعی جزیرے پر رکھی گئی جو ساحل سے تقریباً 280 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس جزیرے کی تیاری میں عمارت سے بھی زیادہ وقت لگا اور اسے مضبوط بنانے کے لیے ہزاروں کنکریٹ کے ستون سمندر کی تہہ میں نصب کیے گئے۔
عمارت کا مشہور سیل نما ڈھانچہ دراصل ٹیفلون کوٹیڈ فائبر گلاس سے تیار کردہ دوہری جھلی پر مشتمل ہے جو نہ صرف پائیدار ہے بلکہ رات کے وقت روشنی میں ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔ اسی سطح کو مختلف قومی دنوں اور تقریبات کے موقع پر پروجیکشن اسکرین کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
ہوٹل کے اندرونی حصے میں 24 قیراط سونے کی ورق کی وسیع مقدار استعمال کی گئی ہے، جبکہ تقریباً 30 مختلف اقسام کے ماربل فرش اور دیواروں کی زینت ہیں۔ ماضی میں یہاں مہمانوں کو سونے سے مزین آئی پیڈ بھی فراہم کیے جاتے رہے ہیں۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ مشہور انڈر واٹر ریستوران دراصل پانی کے نیچے نہیں بلکہ ایک بڑے ایکویریم کے ذریعے یہ تاثر دیتا ہے۔ اسی طرح ہر سوئٹ دو منزلوں پر مشتمل ہے اور شاہی سوئٹ میں گھومنے والا بستر بھی نصب ہے۔
ہوٹل کا ہیلی پیڈ بھی عالمی شہرت رکھتا ہے جہاں ٹینس میچز، گولف شاٹس اور فارمولہ ون سے متعلق اسٹنٹس بھی کیے جا چکے ہیں، جس نے اسے عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔
انجینئرنگ کے اعتبار سے یہ عمارت دو بڑے “ونگز” کے درمیان ایک وسیع خالی جگہ رکھتی ہے جو دراصل ایک 180 میٹر بلند آتریئم ہے اور اسے دنیا کے بلند ترین ہوٹل انٹیریئرز میں شمار کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بحالی کے اس منصوبے کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ اس تاریخی عمارت کی کون سی روایتی خصوصیات برقرار رہتی ہیں اور کون سی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تبدیل کی جاتی ہیں۔







