
خلیج اردو
دبئی میں کرایوں میں حالیہ مہینوں کے دوران بتدریج کمی کا رجحان سامنے آیا ہے، جس کے باعث بہت سے مکین مستقل سالانہ معاہدے کرنے کے بجائے عارضی رہائش اختیار کر رہے ہیں۔ جائیداد کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران آبادی میں تیزی سے اضافے نے کرایوں کو بلند سطح تک پہنچایا تھا، تاہم اب مارکیٹ میں استحکام آ رہا ہے۔
بین الاقوامی ریئل اسٹیٹ ادارہ CBRE کے مطابق دو ہزار چھبیس کی پہلی سہ ماہی میں کرایوں میں اضافے کی رفتار کم ہو کر مسلسل تیسری سہ ماہی میں داخل ہو چکی ہے، جو مجموعی طور پر استحکام کی نشاندہی کرتی ہے۔
فرسٹ کلاس پراپرٹی مینجمنٹ کے شریک بانی روح اللہ روح پرور کا کہنا ہے کہ “بہت سے مکین عارضی رہائش کو ایک لچکدار حل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، کچھ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے استحکام کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ دیگر مزید کمی کی امید میں مارکیٹ کا جائزہ لے رہے ہیں۔”
ان کے مطابق پہلے صرف سات فیصد بکنگز انتیس دن یا اس سے زیادہ مدت کی ہوتی تھیں، جو اب بڑھ کر اڑسٹھ فیصد تک پہنچ چکی ہیں۔ مزید یہ کہ اب اسی فیصد بکنگز آمد سے چھ دن پہلے یا اسی دن کی جا رہی ہیں، جو رہائشی رویوں میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔
بی این بی می ہالیڈے ہومز کے سربراہ ونےک مہتانی کے مطابق “بہت سے کرایہ دار اپنے سالانہ معاہدے تجدید نہیں کر رہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ آئندہ چھ ماہ میں کرایے مزید کم ہوں گے۔” انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک مکین نے ایک لاکھ ستر ہزار درہم کے بجائے ایک لاکھ پینتیس ہزار درہم میں اسی عمارت میں نیا گھر حاصل کر لیا، جو تقریباً بیس فیصد کمی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عارضی رہائش کے کاروبار میں سیاحوں کے بجائے مقامی مکینوں کا تناسب بڑھ گیا ہے۔ خطے میں کشیدگی کے بعد بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں کمی آئی، جس کی جگہ مقامی رہائشیوں نے لے لی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب مکین ڈاؤن ٹاؤن اور جے بی آر جیسے مہنگے علاقوں میں بھی منتقل ہو رہے ہیں، جہاں انہیں روایتی طویل مدتی معاہدوں کے مقابلے میں تقریباً آدھی قیمت پر پرتعیش طرز زندگی میسر آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ جے وی سی، فرجان اور ارجان جیسے علاقوں میں بھی سٹوڈیو اور ایک بیڈ روم اپارٹمنٹس کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ دبئی کی رہائشی مارکیٹ ایک عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں مکین لچکدار اور کم لاگت رہائش کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ آئندہ مہینوں میں کرایوں میں مزید کمی کی توقع برقرار ہے۔







