
خلیج اردو
دبئی: یو اے ای میں موٹاپا کم کرنے کی نئی ادویات فاؤنڈایو اور ویگووی جلد مارکیٹ میں متوقع ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا انشورنس کمپنیاں ان کا خرچ برداشت کریں گی یا نہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی دوا کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فوری طور پر انشورنس میں شامل ہو جائے گی۔
انشورنس ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال ان ادویات کی کوریج کی کوئی تصدیق نہیں، جبکہ یو اے ای میں موٹاپا کم کرنے والی ادویات عموماً محدود کوریج میں آتی ہیں اور یہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ دوا کس مقصد کے لیے تجویز کی گئی ہے۔ بعض ادویات ذیابیطس کے علاج میں شامل ہونے پر کور ہو سکتی ہیں، لیکن وزن کم کرنے کے لیے استعمال پر نہیں۔
بنیادی ہیلتھ انشورنس پلانز میں ایسی ادویات شامل ہونے کا امکان کم ہے، کیونکہ انہیں عموماً ضروری طبی سہولیات تک محدود رکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، پریمیم پلانز میں کچھ صورتوں میں کوریج ممکن ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر مریض کو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا دل کے امراض جیسے مسائل درپیش ہوں، تاہم اس کی کوئی ضمانت نہیں۔
ماہرین کے مطابق انشورنس کمپنیاں نئی ادویات کو شامل کرنے سے پہلے طبی شواہد، طویل مدتی فوائد، لاگت اور پالیسی شرائط کا جائزہ لیتی ہیں، اس لیے فیصلہ مرحلہ وار ہوتا ہے۔ فی الحال مریضوں کو ممکنہ طور پر یہ ادویات اپنی جیب سے خریدنا پڑ سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ موٹاپے کو ایک سنجیدہ طبی مسئلہ تسلیم کیے جانے کے بعد ان ادویات کی کوریج میں تبدیلی آ سکتی ہے، تاہم فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے۔







