متحدہ عرب امارات

دبئی عدالت کا بڑا فیصلہ، سائبر فراڈ میں ملوث تین افراد کو قید، پانچ لاکھ اٹھارہ ہزار پانچ سو درہم جرمانہ اور ملک بدری کا حکم

خلیج اردو
Dubai Misdemeanours Court نے سائبر فراڈ کیس میں تین افراد کو دو ماہ قید اور مجموعی طور پر پانچ لاکھ اٹھارہ ہزار پانچ سو درہم جرمانے کی سزا سنا دی، جبکہ سزا مکمل ہونے کے بعد ملک بدری کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق جرمانے کی رقم ملزمان کی جانب سے حاصل کی گئی غیر قانونی رقم کے برابر ہے، پہلے ملزم پر تین لاکھ چھیالیس ہزار، دوسرے پر بہتر ہزار پانچ سو اور تیسرے پر ایک لاکھ درہم جرمانہ عائد کیا گیا۔

یہ کیس جنوری دو ہزار چھبیس کا ہے، جب ایک شہری جعلی لنک کے ذریعے آن لائن فراڈ کا شکار ہوا، جسے صارفین کے تحفظ کی سروس سمجھ کر اس نے کلک کیا تھا۔

متاثرہ شخص کو ایک واٹس ایپ گفتگو کی طرف منتقل کیا گیا جہاں ایک شخص نے خود کو اہلکار ظاہر کرتے ہوئے بینک کارڈ کی تفصیلات اور تصدیقی کوڈ حاصل کیا، جس کے بعد قلیل وقت میں اس کے اکاؤنٹ سے تقریباً چھ لاکھ ساٹھ ہزار درہم نکال لیے گئے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ چوری شدہ رقم کا کچھ حصہ ملزمان کے مقامی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیا گیا جبکہ باقی رقم مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے گھمائی گئی تاکہ سراغ چھپایا جا سکے۔

ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہیں سوشل میڈیا پر جعلی ملازمت کے اشتہارات کے ذریعے بھرتی کیا گیا تھا اور کمیشن کے بدلے اپنے اکاؤنٹس استعمال کرنے کی اجازت دی، رقم کا کچھ حصہ خود رکھا اور باقی آگے منتقل کر دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ شخص کے بیان، بینک ریکارڈ اور ملزمان کے اعتراف جرم سے ان کا جرم ثابت ہوتا ہے، اور بڑی رقوم کی غیر واضح منتقلی مجرمانہ نیت کو ظاہر کرتی ہے۔

حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ نامعلوم لنکس پر کلک کرنے اور غیر تصدیق شدہ ذرائع کو مالی معلومات دینے سے گریز کریں کیونکہ سرکاری ادارے میسجنگ پلیٹ فارمز کے ذریعے حساس معلومات طلب نہیں کرتے۔

یہ کیس ظاہر کرتا ہے کہ آن لائن فراڈ کے طریقے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو آسانی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button