متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں سوڈان اسلحہ اسمگلنگ کیس، 13 افراد اور 6 کمپنیوں پر فردِ جرم، ریاستی سلامتی عدالت میں ریفرنس منتقل

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے سوڈان سے متعلق ایک بڑے اسلحہ اسمگلنگ نیٹ ورک کی تحقیقات مکمل کرتے ہوئے 13 افراد اور 6 کمپنیوں کے خلاف مقدمہ ریاستی سلامتی عدالت میں بھیج دیا ہے۔

ڈاکٹر حمد سیف الشامسی کے مطابق ملزمان پر غیر قانونی طور پر فوجی سامان کی خرید و فروخت، جعلی دستاویزات کے استعمال اور منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق کچھ ملزمان کو متحدہ عرب امارات میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ بعض ملک سے باہر ہیں۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس نیٹ ورک میں سوڈان کے سابق انٹیلی جنس افسران، سیاستدان اور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔

تحقیقات کے مطابق یہ غیر قانونی ڈیلز سوڈان کی بندرگاہی اتھارٹی کے فوجی کمیٹی کی درخواست پر کی گئیں، جبکہ 6 کمپنیوں کو فرنٹ اداروں کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ مالی لین دین کو چھپایا جا سکے۔

پہلے معاہدے میں کلاشنکوف رائفلز، مشین گنز اور گرنیڈز شامل تھے جن کی اصل مالیت 10 ملین ڈالر تھی جبکہ کاغذی مالیت 13 ملین ڈالر ظاہر کی گئی، جس سے حاصل ہونے والی رقم بطور کمیشن تقسیم کی گئی۔

دوسرے مرحلے میں 2 ملین ڈالر سے گوریونوف ایمونیشن خریدی گئی، جس کا کچھ حصہ نجی طیارے کے ذریعے غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔

تحقیقات میں مالی ریکارڈز، بینک ٹرانزیکشنز، دستاویزات اور مواصلاتی ریکارڈز سے نیٹ ورک کی مکمل تصدیق ہوئی، جبکہ بعض ملزمان کے اعترافی بیانات بھی شامل ہیں۔

پراسیکیوشن کے مطابق یہ کیس اس بات کی واضح مثال ہے کہ متحدہ عرب امارات اپنی سرزمین اور مالی نظام کو کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

یہ کیس ملک کی سخت قانونی پالیسی اور ریاستی سلامتی کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button