
خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ڈیل چاہتا ہے مگر معاملات آگے نہیں بڑھ رہے۔
فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز قابل قبول نہیں۔ ان کے بقول، "ایران ایسی چیزیں مانگ رہا ہے جن سے مجھے اتفاق نہیں۔”
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے فون پر بات چیت جاری ہے، تاہم وہ موجودہ صورتحال سے خوش نہیں اور نہیں چاہتے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرے۔
انہوں نے پاکستان کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا، "میں پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی بہت عزت کرتا ہوں۔”
ایرانی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں اتحاد کا فقدان ہے۔ "کوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ، خود انہیں بھی واضح نہیں کہ قیادت کس کے پاس ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایسا معاہدہ نہیں کرے گا جس سے ایران وقتی طور پر جنگ سے نکل آئے اور بعد میں دوبارہ مسئلہ پیدا ہو جائے۔
ٹرمپ کے مطابق آبنائے ہرمز میں تیل سے بھرے تقریباً چار سو بحری جہاز رکے ہوئے ہیں، اور اگر یہ آگے بڑھیں تو عالمی ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
انہوں نے نیٹو پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس تنازع میں اتحادیوں کی جانب سے کوئی خاص مدد نہیں ملی، حالانکہ امریکہ ان پر کھربوں ڈالر خرچ کرتا ہے۔
اپنے خطاب میں ٹرمپ نے سابق جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "ہم نے ویتنام میں انیس سال اور عراق میں بارہ سال گزارے، جبکہ ایران میں صرف چھ ہفتے ہوئے ہیں اور سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے بیس لاکھ بیرل تیل لے جانے والے ایک ٹینکر کی کامیاب ناکہ بندی بھی کی ہے۔
موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد کا فقدان اور پیچیدہ علاقائی حالات کسی بھی ممکنہ معاہدے کو مزید مشکل بنا رہے ہیں۔







