
خلیج اردو
دبئی میں مقیم نو سالہ طالب علم راجر شی ژی ہاؤ اس وقت خبروں میں آ گئے جب ان کے ایک سادہ سے خط نے انہیں دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم سے ملاقات کا موقع دلا دیا۔
راجر نے بتایا کہ وہ چار سال سے دبئی میں رہ رہے ہیں اور ریپٹن اسکول دبئی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تاہم موسیقی ان کی زندگی کا اہم ترین حصہ ہے۔ انہوں نے تین سال کی عمر میں چین میں پیانو سیکھنا شروع کیا اور دبئی آنے کے بعد بھی اس شوق کو جاری رکھا۔
وہ کہتے ہیں، "مجھے شروع سے ہی پیانو پسند تھا، میں نے دوسری چیزیں بھی آزمائیں مگر پیانو سب سے زیادہ پسند آیا۔” اب وہ اسکول کے اندر اور باہر دونوں جگہ پرفارم کرتے ہیں اور جلد کنسرٹس کرنے کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔
راجر کا خواب ہے کہ وہ یورپ میں پرفارم کریں۔ ان کے مطابق، "وہاں لوگ پیانو کو بہتر سمجھتے ہیں اور میں وہاں مزید اچھا بجا سکوں گا۔”
یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب ایک روز خاندانی کھانے کے دوران انہوں نے عالمی حالات پر گفتگو کے بعد ایک خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔ "میں نے سوچا کہ اس ملک کے ایک رہنما کا شکریہ ادا کرنا چاہیے،” راجر نے بتایا۔
اپنے خط میں انہوں نے "I love Dubai” تین بار لکھا، جو بعد میں خاص توجہ کا مرکز بن گیا۔ خاندان کے مطابق اس خط کے بدلے میں کسی ردعمل کی توقع نہیں تھی، یہ محض اظہارِ تشکر تھا۔
خط بھیجنا بھی آسان نہ تھا، انہوں نے مختلف ڈاک خانوں کا رخ کیا اور آخرکار دبئی مال سے خط ارسال کیا۔ چند ہفتوں تک کوئی جواب نہ آیا، پھر اچانک ایک فون کال موصول ہوئی۔
بعد ازاں انہیں اٹلانٹس دی پام مدعو کیا گیا جہاں راجر پیانو بجا رہے تھے کہ اچانک دروازہ کھلا اور شیخ محمد بن راشد المکتوم اندر داخل ہوئے، یوں ایک یادگار ملاقات ہوئی جو بعد میں وائرل ہو گئی۔
راجر نے کہا، "مجھے ان سے مل کر بہت فخر محسوس ہوا، وہ بہت مہربان تھے، انہوں نے مجھے بیج اور کتاب دی۔”
اگرچہ یہ ملاقات عالمی توجہ کا باعث بنی، مگر راجر اب بھی اپنی روزمرہ زندگی، تعلیم اور موسیقی کی مشق پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں، اور مستقبل میں بڑے اسٹیجز پر پرفارم کرنے کے خواہشمند ہیں۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ خلوص، محنت اور ایک سادہ سا جذبہ کبھی کبھار غیر متوقع مواقع کے دروازے کھول دیتا ہے۔







