متحدہ عرب امارات

دبئی میں ٹریفک دباؤ: رہائشی ترجیحات بدلنے لگیں، شہری اب کام کے قریب رہائش کو ترجیح دینے لگے

خلیج اردو

متحدہ عرب امارات میں بڑھتی ہوئی ٹریفک نے رہائشی اور جائیداد کے رجحانات کو واضح طور پر تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث لوگ اب کام کی جگہ کے قریب رہائش کو زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق روزانہ طویل اور غیر یقینی سفر شہریوں کے وقت اور توانائی پر بھاری پڑ رہا ہے، جس سے رہائشی فیصلے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق دبئی میں ڈرائیورز نے 2025 میں اوسطاً 45 گھنٹے ٹریفک میں گزارے، جبکہ ایک 10 کلومیٹر کا سفر بھی تقریباً 19 منٹ سے زیادہ لیتا ہے۔

خاص طور پر دبئی اور شمالی امارات کے درمیان سفر کرنے والوں کو سالانہ تقریباً 460 گھنٹے کی تاخیر کا سامنا ہے، جو تقریباً دو ماہ کے کام کے برابر ہے۔

اس صورتحال میں کئی رہائشی اب بڑے گھروں کے بجائے کام کے قریب چھوٹے اپارٹمنٹس کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ روزانہ سفر کا وقت کم کیا جا سکے۔

ایک رہائشی کے مطابق اگرچہ انہیں چھوٹے گھر اور زیادہ کرایہ برداشت کرنا پڑا، لیکن ذہنی سکون اور وقت کی بچت اس کے مقابلے میں زیادہ اہم ثابت ہوئی۔

ماہرینِ جائیداد کے مطابق یہ رجحان صرف سہولت نہیں بلکہ "وقت کو بطور سرمایہ” دیکھنے کی نئی سوچ کا نتیجہ ہے، جس میں لوگ اپنے روزمرہ وقت کو زیادہ قیمتی سمجھنے لگے ہیں۔

دبئی کے مرکزی کاروباری علاقوں جیسے بزنس بے، جے ایل ٹی اور مرینا میں اسی وجہ سے طلب برقرار ہے کیونکہ یہ علاقے ملازمتوں کے قریب ہیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبے جیسے سڑکوں اور میٹرو کی توسیع اس رجحان کو بدل سکتے ہیں اور دور دراز علاقے بھی نئی اہمیت حاصل کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق دبئی میں جاری ترقیاتی منصوبے شہر کو ایک زیادہ پھیلے ہوئے اور منظم شہری نظام کی طرف لے جا رہے ہیں۔

طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طویل سفر صرف وقت نہیں بلکہ ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، جس سے ذہنی دباؤ، تھکن اور بے چینی جیسے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button