خلیج اردو
دبئی ایئرپورٹس نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود پر عائد پابندیاں ختم ہونے کے بعد فلائٹ آپریشنز میں تیزی لائی جا رہی ہے اور پروازوں کی تعداد بتدریج بڑھائی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت متحدہ عرب امارات جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے فضائی ٹریفک کی مکمل بحالی کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد ایئرپورٹس نے بحالی کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے کی تصدیق کی۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو خطے میں کشیدگی کے باعث احتیاطی تدابیر کے طور پر فضائی حدود جزوی طور پر بند کر دی گئی تھیں، تاہم 2 مئی کو تمام پابندیاں ختم کر دی گئیں۔
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے اس دوران بھی عالمی رابطہ برقرار رکھا، جہاں 28 فروری سے 30 اپریل تک 60 لاکھ مسافروں، 32 ہزار سے زائد پروازوں اور 2 لاکھ 13 ہزار ٹن کارگو کو سنبھالا گیا۔
2026 کی پہلی سہ ماہی میں مسافروں کی تعداد 1 کروڑ 86 لاکھ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20.6 فیصد کم ہے، جبکہ مارچ میں یہ تعداد 65 فیصد کمی کے ساتھ 25 لاکھ ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق کارگو اور پروازوں کی تعداد میں بھی کمی دیکھنے میں آئی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور ایئرلائنز اپنے شیڈول بحال کر رہی ہیں۔
حکام کے مطابق بھارت، سعودی عرب، برطانیہ اور پاکستان دبئی کے اہم ترین مسافر مارکیٹس میں شامل رہے، جبکہ لندن سب سے مصروف روٹ رہا۔
دبئی ایئرپورٹس کے سی ای او نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ عالمی فضائی ٹریفک کا اہم مرکز ہے اور یہاں سے گزرنے والی ٹرانزٹ ٹریفک کا بڑا حصہ دبئی کے ذریعے ہوتا ہے، جو تیزی سے بحال ہونے کی توقع ہے۔
حکام کے مطابق فضائی حدود کی بحالی کے بعد خطے میں فلائٹ روٹس کو بہتر بنانے کیلئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی رابطہ جاری ہے تاکہ سفر مزید مؤثر اور محفوظ بنایا جا سکے۔







