متحدہ عرب امارات

چار فلسطینی بچے اردن ایئرپورٹ پر چار ماہ تک پھنسے رہنے کے بعد صدر شیخ محمد بن زاید کے فوری حکم پر متحدہ عرب امارات واپس پہنچ گئے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک فلسطینی خاندان کے چار بچے اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہوگئے جب انہیں والد نے نئی زندگی کے آغاز کیلئے اردن بھیجا، مگر وہ ویزا اور داخلہ دستاویزات مکمل نہ ہونے کے باعث چار ماہ تک اردن کے کوئین عالیہ ایئرپورٹ پر پھنسے رہے۔

بچوں کے والد عید سلیمان العباّسی کے مطابق ابتدا میں بچے کچھ دن ایئرپورٹ پر رہے، بعد ازاں انہیں ہوٹل منتقل کیا گیا، تاہم قانونی پیچیدگیوں کے باعث نہ وہ اردن داخل ہوسکے اور نہ ہی متحدہ عرب امارات واپس آنا ممکن ہوا۔

اس دوران بچوں نے ایک جذباتی ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا جس میں انہوں نے صدر شیخ محمد بن زاید کو محبت سے “بابا” کہہ کر مدد کی اپیل کی۔ ویڈیو میں بچوں نے کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں پیدا ہوئے ہیں اور ان کا کوئی دوسرا وطن نہیں۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ فوری طور پر اماراتی قیادت تک پہنچا، جس پر غیر معمولی رفتار سے کارروائی کی گئی۔ والد کے مطابق چند گھنٹوں کے اندر رابطہ ہوا اور مختصر وقت میں بچوں کی واپسی کی اجازت دے دی گئی۔

حکام کی جانب سے ہدایت دی گئی کہ بچوں کو پہلے واپس متحدہ عرب امارات لایا جائے اور ویزا کارروائی بعد میں مکمل کی جائے، جسے انسانی ہمدردی پر مبنی فیصلہ قرار دیا گیا۔

خاندان نے بتایا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب صدر شیخ محمد بن زاید نے ان کی مدد کی ہو، اس سے قبل 2007 اور 2012 میں بھی خاندان کو طبی اور ذاتی معاونت فراہم کی گئی تھی۔

بچوں کی محفوظ واپسی پر خاندان نے شدید جذباتی انداز میں اظہار تشکر کیا اور اسے ایک بار پھر اماراتی قیادت کی انسان دوستی اور فوری ردعمل کی مثال قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں انسانی مسائل کو بعض اوقات انتظامی رکاوٹوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button