
خلیج اردو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں مجرمانہ نوعیت کی کارروائیاں کر رہا ہے جس سے عالمی جہاز رانی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ایرانی اقدامات کے باعث مختلف ممالک کے بحری جہازوں کے عملے کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور کئی جہاز آبنائے ہرمز میں پھنس چکے ہیں جہاں انہیں خوراک اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
مارکو روبیو کے مطابق ایران سویلین بحری جہازوں پر حملے کر رہا ہے اور یہ رویہ اس کے ماضی کے طرز عمل سے مختلف نہیں، جہاں اس نے نہتے مظاہرین کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ممالک نے اپنے جہازوں کو نکالنے کیلئے امریکا سے مدد طلب کی ہے، جس کے بعد “پروجیکٹ فریڈم” شروع کیا گیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز کو کھولا جا سکے اور پھنسے افراد کو محفوظ بنایا جا سکے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز ایک عالمی آبی گزرگاہ ہے جس پر کسی ایک ملک کا کنٹرول نہیں ہو سکتا، اور امریکا کی کارروائی کا مقصد کسی ملک پر حملہ نہیں بلکہ انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا پر حملوں کے بعد جوابی کارروائی بھی کی گئی ہے، جبکہ صورتحال پر عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے اور عالمی تجارت کے اہم راستے پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر رہی ہے۔






