متحدہ عرب امارات

دبئی کی فوڈ کمپنی آئی ایف ایف سی او بحران کا شکار کیوں ہوئی، خلیجی معیشت پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں؟

خلیج اردو
دبئی میں قائم بڑی فوڈ کمپنی آئی ایف ایف سی او، جو نور، ٹفنی اور لندن ڈیری جیسے معروف برانڈز کی مالک ہے، شدید مالی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بحران صرف ایک کمپنی کا مسئلہ نہیں بلکہ خلیجی کاروباری ماڈل کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی سمجھا جا رہا ہے۔

آئی ایف ایف سی او نے گزشتہ کئی دہائیوں میں تیزی سے کاروبار پھیلایا اور مختلف ممالک میں سرمایہ کاری کی۔ اس دوران کمپنی پر تقریباً دو ارب ڈالر کا قرض چڑھ گیا۔ عالمی شرح سود بڑھنے کے بعد قرض کی ادائیگی مشکل ہوتی گئی جبکہ کاروباری اخراجات بھی مسلسل بڑھتے رہے۔

کمپنی نے قرض دہندگان کے ساتھ تنظیمِ نو مذاکرات شروع کیے، مگر کمزور نقدی پوزیشن، انتظامی مسائل اور شیئر ہولڈرز کے اختلافات نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی۔ بعد ازاں ایران تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری تجارت متاثر ہوئی تو کمپنی کی سپلائی چین شدید دباؤ میں آ گئی۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ جنگی کشیدگی بڑھنے پر شپنگ، انشورنس اور لاجسٹکس اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ فوڈ آئلز، پیکجنگ میٹریل اور دیگر خام مال کی ترسیل میں تاخیر نے آئی ایف ایف سی او جیسے درآمدی کاروبار پر اضافی بوجھ ڈال دیا۔

رپورٹس کے مطابق ایچ ایس بی سی کی قیادت میں قرض دہندگان کے ایک گروپ نے سنگاپور اور آئل آف مین میں قانونی کارروائی شروع کر دی ہے تاکہ کمپنی کے بعض اثاثوں پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحران خلیجی خطے کے کئی شعبوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ فوڈ، ریٹیل، کموڈیٹی ٹریڈنگ، تعمیرات، ایوی ایشن اور لاجسٹکس سے وابستہ کمپنیاں پہلے ہی مہنگی فنانسنگ، سپلائی چین مسائل اور جغرافیائی کشیدگی کے دباؤ میں ہیں۔

خاندانی کاروباری گروپس کو بھی خاص خطرہ لاحق بتایا جا رہا ہے کیونکہ خطے کی کئی بڑی کمپنیاں قرض پر مبنی توسیعی ماڈل کے تحت چلتی رہیں۔ محدود شفافیت، کمزور گورننس اور فیصلہ سازی کے مرکوز نظام بحران کے دوران کمزوریاں نمایاں کر دیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی جلد کم ہو گئی تو صورتحال قابو میں آ سکتی ہے، لیکن اگر شپنگ متاثر رہی اور بینک قرض دینے میں مزید محتاط ہو گئے تو خطے میں مزید کمپنیوں کی تنظیمِ نو یا اثاثہ فروخت جیسے اقدامات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی مجموعی معیشت اب بھی مضبوط ہے، تاہم آئی ایف ایف سی او بحران نے واضح کر دیا ہے کہ بڑے اور پرانے کاروباری گروپس بھی قرض، جغرافیائی تنازعات اور سپلائی چین کے بیک وقت دباؤ کے سامنے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button