
خلیج اردو
دبئی میونسپلٹی نے اعلان کیا ہے کہ مشترکہ رہائش یا شیئرڈ ہاؤسنگ کے لیے پرمٹ درخواستیں جلد کھولی جائیں گی، تاہم فی الحال درخواستوں کا آغاز نہیں کیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام اہل جائیداد مالکان اور آپریٹرز متعلقہ طریقہ کار اور شرائط کے اعلان کے بعد دبئی میونسپلٹی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے درخواست دے سکیں گے۔
میونسپلٹی کا کہنا ہے کہ جائیداد مالکان اور آپریٹرز کی رہنمائی کے لیے تفصیلی ہدایات اور قواعد بھی تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ نئے نظام پر واضح اور منظم انداز میں عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔
مارچ 2026 میں دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے مشترکہ رہائش کے انتظام اور رہائشی گنجائش سے متعلق نیا قانون جاری کیا تھا۔ اس قانون کا مقصد غیر قانونی پارٹیشن اپارٹمنٹس، غیر منظم رہائش اور گنجائش سے زیادہ افراد کی رہائش کو روکنا ہے۔
یہ فیصلہ دبئی کے مختلف علاقوں، جن میں الرقہ، المرقبات، البرشاء، السطوہ اور الرافعہ شامل ہیں، میں غیر قانونی شیئرڈ اور پارٹیشن اپارٹمنٹس کے خلاف کارروائیوں کے بعد سامنے آیا۔
دبئی میونسپلٹی کے مطابق ہر پرمٹ کے تحت اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ رہائشی یونٹ تمام مقررہ تکنیکی، حفاظتی اور رہائشی شرائط پر پورا اترتا ہو۔ ان میں فی فرد کم از کم رہائشی جگہ، زیادہ سے زیادہ رہائشیوں کی تعداد اور مشترکہ سہولیات کی دستیابی شامل ہوگی۔
حکام نے بتایا کہ پرمٹ فیس اور درخواست پراسیسنگ کے دورانیے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، جن کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
نئے قانون کے تحت اب کوئی فرد یا ادارہ دبئی میونسپلٹی کی اجازت کے بغیر کسی یونٹ کو شیئرڈ ہاؤسنگ کے طور پر استعمال نہیں کر سکے گا۔ یہ پرمٹس دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے جاری اور تجدید کیے جائیں گے۔
قانون میں اہم تبدیلی یہ بھی کی گئی ہے کہ اب صرف جائیداد کا مالک یا لائسنس یافتہ ادارہ ہی یونٹ کرائے پر دے سکے گا۔ پہلے کرایہ دار اپارٹمنٹ کو پارٹیشن کر کے دوسروں کو سب لیز پر دے دیتے تھے، لیکن اب یہ عمل ممنوع ہوگا۔
شیئرڈ ہاؤسنگ پرمٹ ایک سال کے لیے مؤثر ہوگا جبکہ مالکان دو سالہ پرمٹ بھی حاصل کر سکیں گے۔ تجدید کی درخواست موجودہ پرمٹ ختم ہونے سے کم از کم 30 روز قبل دینا ضروری ہوگی۔
حکام کے مطابق قانون کی خلاف ورزی پر 500 درہم سے لے کر 5 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے جبکہ ایک سال کے اندر دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں جرمانہ بڑھ کر 10 لاکھ درہم تک پہنچ سکتا ہے۔







