متحدہ عرب امارات

دبئی میں ای اسکوٹر قوانین سخت، مخصوص ٹریکس اور محفوظ سڑکوں تک محدود استعمال، خلاف ورزی پر 300 درہم تک جرمانے عائد کیے جائیں گے

خلیج اردو
دبئی میں ای اسکوٹرز اور سائیکلوں کے بڑھتے استعمال کے بعد روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے واضح کردیا ہے کہ سوار صرف مخصوص ٹریکس، سائیکلنگ لینز اور منظور شدہ "سیف اسٹریٹ” علاقوں میں ہی ای اسکوٹر چلا سکتے ہیں۔

دبئی پولیس اور آر ٹی اے نے شہر بھر میں ای اسکوٹرز اور سائیکلوں کی سخت نگرانی شروع کردی ہے تاکہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے اور حادثات میں کمی لائی جاسکے۔

آر ٹی اے کے ٹریفک اینڈ روڈز ایجنسی کے ڈائریکٹر احمد الخزائمی کے مطابق جہاں سائیکلنگ یا ای اسکوٹر ٹریکس موجود ہوں وہاں سواروں کے لیے انہی راستوں کا استعمال لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹریکس پیدل چلنے والوں کے راستوں سے الگ بنائے گئے ہیں تاکہ دونوں کے لیے سفر محفوظ اور آسان رہے۔

کچھ رہائشی علاقوں میں "سیف اسٹریٹ” نظام کے تحت مقامی سڑکوں پر بھی ای اسکوٹر چلانے کی اجازت ہے۔ ان علاقوں میں گاڑیوں کی رفتار 30 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود رکھی گئی ہے جبکہ سرخ نشانات اور سائن بورڈز کے ذریعے راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

حکام کے مطابق "سیف اسٹریٹ” دراصل کم ٹریفک والی سڑکیں ہیں جہاں کم رفتار کی وجہ سے گاڑیوں، سائیکلوں اور ای اسکوٹرز کے درمیان محفوظ انداز میں راستہ شیئر کیا جاسکتا ہے۔

آر ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ پیدل چلنے والوں کے فٹ پاتھ پر ای اسکوٹر چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ شہریوں کی جانب سے شکایات سامنے آئی تھیں کہ مصروف علاقوں میں ای اسکوٹرز تیز رفتاری سے پیدل افراد کے قریب سے گزرتے ہیں جس سے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

دبئی میں ای اسکوٹر استعمال کرنے والوں کے لیے چند بنیادی قوانین بھی مقرر کیے گئے ہیں جن میں کم از کم عمر 16 سال ہونا، ایک اسکوٹر پر صرف ایک شخص کی اجازت، ٹریفک اشاروں کی پابندی اور صرف منظور شدہ راستوں پر سفر شامل ہے۔

حکام نے ہیلمٹ اور حفاظتی سامان کے استعمال کی بھی سختی سے ہدایت کی ہے جبکہ خطرناک ڈرائیونگ یا غیر محفوظ حرکات پر کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔

قوانین کی خلاف ورزی پر 100 سے 300 درہم تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ خلاف ورزیوں میں غیر منظور شدہ علاقوں میں سواری، اسکوٹر پر مسافر بٹھانا، خطرناک انداز میں چلانا اور حفاظتی قوانین نظر انداز کرنا شامل ہیں۔ بعض صورتوں میں گاڑی ضبط بھی کی جاسکتی ہے۔

آر ٹی اے کے مطابق شہری منظور شدہ راستوں اور سائیکلنگ نیٹ ورک کی معلومات ادارے کی ویب سائٹ اور شہر بھر میں نصب سائن بورڈز سے حاصل کرسکتے ہیں۔

اتھارٹی نے بتایا کہ 2025 کے اختتام تک دبئی میں سائیکلنگ ٹریکس کا مجموعی نیٹ ورک 636 کلومیٹر تک پہنچ چکا ہے جبکہ مستقبل میں مزید راستے، پارکنگ زونز اور پبلک ٹرانسپورٹ سے رابطے بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کا مقصد صرف جرمانے عائد کرنا نہیں بلکہ شہریوں کے لیے محفوظ، منظم اور آسان سفر کو یقینی بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button