
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ میں جلد ایسا جدید سیاحتی منصوبہ متعارف کروایا جارہا ہے جہاں لوگ زمین پر رہتے ہوئے خلا میں سفر جیسا تجربہ حاصل کرسکیں گے، جس میں زیرو گریویٹی، جی فورس ٹریننگ اور خلابازوں جیسی خصوصی مشقیں شامل ہوں گی۔
یہ منصوبہ ایکشن فلائٹ ایوی ایشن اور بلنک اسپیس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت شروع کیا جارہا ہے جبکہ اس کا اعلان راس الخیمہ کے حکمران اور سپریم کونسل کے رکن شیخ سعود بن صقر القاسمی کی موجودگی میں کیا گیا۔
تقریب میں ناسا کے سابق ایڈمنسٹریٹر چارلس ایف بولڈن جونیئر کے صاحبزادے شی بولڈن اور ناسا خلا باز جینیٹ جے ایپس سمیت خلائی شعبے کے معروف ماہرین اور سرمایہ کار بھی شریک ہوئے۔
اس منصوبے کے تحت راس الخیمہ میں خلاباز طرز کے خصوصی تربیتی تجربات فراہم کیے جائیں گے جن میں ہائی پرفارمنس پروازیں، جی فورس کنڈیشننگ، ایروبٹک فلائٹ آپریشنز، پیراشوٹ اور فری فال تیاری کے ساتھ زیرو گریویٹی ٹریننگ شامل ہوگی۔
حکام کے مطابق یہ پروگرام نجی خلاباز بننے کے خواہشمند افراد، کارپوریٹ اداروں اور مہم جوئی پسند سیاحوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں تاکہ انہیں انسانی خلائی سفر جیسا حقیقی اور سنسنی خیز تجربہ فراہم کیا جاسکے۔
شرکا کو ایسے کنٹرولڈ فضائی ماحول میں تربیت دی جائے گی جہاں راکٹ لانچ، زمین پر واپسی، ذہنی دباؤ، سمت کھونے اور خلا میں درپیش جسمانی چیلنجز کی نقل کی جائے گی۔
راس الخیمہ ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیف کمرشل آفیسر برینٹ اینڈرسن نے کہا کہ یہ منصوبہ ریاست کو جدید، منفرد اور پریمیم سیاحتی مرکز بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے جہاں ٹیکنالوجی، ایڈونچر اور اعلیٰ معیار کی سیاحت کو یکجا کیا جارہا ہے۔
بلنک اسپیس کے بانی میک مالکاوی کے مطابق اس شراکت داری کا مقصد لوگوں کو انسانی خلائی سفر اور خلاباز تیاری کی دنیا سے براہ راست متعارف کروانا ہے تاکہ متحدہ عرب امارات مستقبل کی خلائی صنعت میں اہم کردار ادا کرسکے۔
ایکشن فلائٹ ایوی ایشن کے سربراہ کیپٹن وین اے جیک نے کہا کہ یہ تعاون سیاحت، انسانی کارکردگی اور خلائی تیاری کو ایک نئی سطح پر لے جائے گا۔
معاہدے کے تحت ایکشن فلائٹ ایوی ایشن راس الخیمہ میں تمام فضائی تربیتی سرگرمیاں چلائے گی جبکہ بلنک اسپیس پروگرام ڈیزائن، تربیتی نصاب، عالمی شراکت داری اور بین الاقوامی شرکا کی نگرانی کرے گی۔
ابتدائی پروگرام 2026 کے دوسرے نصف میں شروع کیے جانے کی توقع ہے جن میں جی فورس ٹریننگ، ایروبٹک فلائٹ تجربات اور بنیادی اسپیس ریڈی نیس سرگرمیاں شامل ہوں گی جبکہ مستقبل میں کئی روزہ خلاباز تربیتی پیکجز، فاسٹ جیٹ تجربات، جدید فری فال سسٹمز اور زیرو گریویٹی پرابولک فلائٹس بھی متعارف کرائی جائیں گی۔
یہ منصوبہ راس الخیمہ کو مستقبل کی سیاحت اور ایڈونچر انڈسٹری کے عالمی مرکز کے طور پر نمایاں کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔







