متحدہ عرب امارات

عدالت نے مسلسل فون کالز کے ذریعے ہراساں کرنے والے شخص کو 60 ہزار درہم ادا کرنے کا حکم دے دیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ایک شخص کو مسلسل فون کالز کے ذریعے دوسرے شہری کو ذہنی اذیت اور پریشانی میں مبتلا کرنے پر مجموعی طور پر 60 ہزار درہم ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ عدالت نے پہلے سے دیے گئے 51 ہزار درہم کے عبوری معاوضے کے علاوہ مزید 9 ہزار درہم ادا کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق متاثرہ شخص نے 1 لاکھ درہم ہرجانے کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے بار بار فون کالز کر کے جان بوجھ کر ذہنی دباؤ اور جذباتی تکلیف پہنچائی۔ اس سے قبل فوجداری عدالت بھی ملزم کو مسلسل فون کالز کے ذریعے پریشان کرنے کے جرم میں قصوروار قرار دے چکی تھی۔

سول مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم نے مؤقف اپنایا کہ مدعی پہلے ہی فوجداری عدالت سے معاوضہ حاصل کر چکا ہے، اس لیے نیا دعویٰ مسترد کیا جائے۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ فوجداری عدالت کے فیصلے سول مقدمات میں بھی قانونی حیثیت رکھتے ہیں، خصوصاً جب جرم، اس کی نوعیت اور ملزم کی ذمہ داری ثابت ہو چکی ہو۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سرکاری ریکارڈ اور سابقہ عدالتی فیصلے سے واضح ہے کہ ملزم نے جان بوجھ کر بار بار فون کالز کے ذریعے مدعی کو ذہنی اذیت پہنچائی، جس سے اسے اخلاقی اور جذباتی نقصان اٹھانا پڑا۔

عدالت نے مجموعی نقصان کا تخمینہ 60 ہزار درہم لگایا، تاہم چونکہ 51 ہزار درہم پہلے ہی عبوری معاوضے کے طور پر دیے جا چکے تھے، اس لیے ملزم کو باقی 9 ہزار درہم، عدالتی اخراجات اور قانونی فیس ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ہراسانی اور ذہنی اذیت سے متعلق مقدمات میں اہم قانونی مثال بن سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button