متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں تنخواہ سے تنخواہ تک زندگی گزارنے والوں کو 6 ماہ کا ایمرجنسی فنڈ بنانے کا مشورہ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں مالی ماہرین نے تنخواہ سے تنخواہ تک زندگی گزارنے والے ملازمین کو خبردار کیا ہے کہ غیر یقینی معاشی حالات، ملازمتوں میں کٹوتی اور تنخواہوں میں کمی کے باعث کم از کم 6 ماہ کا ایمرجنسی فنڈ بنانا اب ضرورت بن چکا ہے۔

مالیاتی ماہر سونل چیبر کے مطابق مشکل وقت کے لیے مالی تیاری اب صرف مشورہ نہیں بلکہ مالی استحکام کی بنیادی شرط بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افراد کو اپنی طویل مدتی سرمایہ کاری اور ہنگامی اخراجات کے لیے رکھی گئی رقم الگ رکھنی چاہیے تاکہ اچانک بحران کی صورت میں مالی دباؤ کم ہو سکے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ ہر فرد کو اپنی 6 سے 9 ماہ کی ضروری گھریلو اخراجات کے برابر رقم محفوظ رکھنی چاہیے، جسے کم خطرے والے اور فوری دستیاب مالی ذرائع جیسے سیونگ اکاؤنٹس یا منی مارکیٹ فنڈز میں رکھا جائے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ ملازمت ختم ہونے یا تنخواہ رکنے کی صورت میں ذاتی قرض لینا کئی خاندانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ قانونی ماہر مشیل کاربی کے مطابق غیر منظم قرضے اور غیر قانونی لین دین متحدہ عرب امارات میں سنگین قانونی مسائل، جرمانوں اور حتیٰ کہ سفری پابندیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

مالیاتی مشیر کارتک ائیر نے کہا کہ مشکل وقت میں بلا سوچے سمجھے قرض لینا وقتی مسئلے کو طویل المدتی بحران میں بدل سکتا ہے۔ انہوں نے غیر قانونی قرض دہندگان سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے سود، ہراسانی اور قانونی خطرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایمرجنسی فنڈ بنانا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ کارتک ائیر نے مشورہ دیا کہ سب سے پہلے ماہانہ اخراجات کا درست حساب رکھا جائے، پھر کم از کم 3 سے 6 ماہ کے اخراجات کے برابر رقم محفوظ کی جائے اور اس رقم کو روزمرہ خرچ سے الگ رکھا جائے۔

مالیاتی ماہرین نے بجٹ تقسیم کرنے کا ایک فارمولا بھی تجویز کیا، جس کے مطابق آمدنی کا تقریباً 50 فیصد ضروری اخراجات، 20 فیصد ایمرجنسی بچت، 20 فیصد سرمایہ کاری اور 10 فیصد ذاتی یا تفریحی اخراجات کے لیے مختص ہونا چاہیے۔

فنانشل ویلنَس کنسلٹنٹ بیتھ کلے نے مشورہ دیا کہ بچت کے عمل کو خودکار بنایا جائے تاکہ ہر ماہ مخصوص رقم خود بخود محفوظ ہوتی رہے۔ ان کے مطابق مستقل مزاجی ہی مالی تحفظ کی بنیاد ہے۔

قانونی ماہر سلام پاپینیسری نے ایسے افراد کو قانونی فری لانس یا جز وقتی ملازمت اختیار کرنے کا مشورہ دیا جن کے پاس ایمرجنسی فنڈ موجود نہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اضافی کام کے لیے باقاعدہ ورک پرمٹ یا این او سی حاصل کرنا ضروری ہے، ورنہ جرمانے یا ملک بدری جیسے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملازمت ختم ہونا کئی افراد کے لیے بڑا دھچکا ہوتا ہے، لیکن درست منصوبہ بندی، اخراجات میں کمی اور آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کر کے لوگ پہلے سے زیادہ مضبوط مالی پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں۔ کورونا وبا کے بعد متحدہ عرب امارات میں کئی افراد نے اسی حکمت عملی سے مالی استحکام دوبارہ حاصل کیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button