
خلیج اردو
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کیلئے 1.32 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دے دی ہے۔ اس رقم میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) پروگرام کے تحت 1.1 ارب ڈالر جبکہ کلائمیٹ فنانسنگ پروگرام کے تحت 22 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔ یہ قسط آئندہ چند روز میں پاکستان کو موصول ہونے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق دونوں پروگرامز کے تحت پاکستان کو اب تک مجموعی طور پر 4.8 ارب ڈالر فراہم کیے جا چکے ہیں۔ ادارے نے کہا ہے کہ پاکستان نے معاشی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر عملدرآمد میں بہتری دکھائی ہے۔
رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ حکومت نے اسی مدت کیلئے 4.2 فیصد گروتھ کا ہدف مقرر کیا ہے۔ مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جبکہ بے روزگاری کی شرح اس سال 6.9 فیصد اور اگلے سال 6.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر دسمبر 2025 تک 16 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ نسبتاً متوازن رہا ہے اور مالی استحکام میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
ادارے نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دی جائے، ٹیکس وصولی بہتر بنائی جائے، نجکاری کے عمل کو تیز کیا جائے اور توانائی کے شعبے میں قیمتوں کو لاگت کے مطابق رکھا جائے۔ ساتھ ہی سماجی شعبوں پر اخراجات بڑھانے اور سخت مالیاتی و مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق جاری پروگرام کے تحت پاکستان کی معاشی اصلاحات کا عمل جاری ہے اور موجودہ معاشی کارکردگی میں استحکام کے آثار نظر آ رہے ہیں۔







