
خلیج اردو
ترجمان نے بتایا کہ ٹرمپ کا دورہ چین جمعرات کی صبح ایک افتتاحی تقریب سے شروع ہوگا جبکہ شام کے وقت سرکاری ضیافت (اسٹیٹ بینکویٹ) کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
Donald Trump کے اس دورے میں امریکہ اور چین کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے مشترکہ بورڈز بنانے پر بات چیت متوقع ہے۔ دونوں ممالک ایوی ایشن، زراعت اور توانائی کے شعبوں پر بھی مذاکرات کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ 2026 کے آخر میں چین کے صدر Xi Jinping کو جوابی دورے کی دعوت بھی دے سکتے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان طیاروں کی خریداری اور زرعی مصنوعات سے متعلق ممکنہ تجارتی معاہدوں پر بھی بات چیت جاری ہے۔
اعلیٰ امریکی اہلکار نے بتایا کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ ایران اور روس کے حوالے سے چین کی پالیسی پر بھی گفتگو کریں گے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق امریکی سکیورٹی خدشات بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
ریئر ارتھ (نایاب معدنیات) سے متعلق امریکہ اور چین کے درمیان موجود معاہدہ اب بھی برقرار ہے اور اس میں توسیع کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔
اہلکار کے مطابق ٹرمپ چین کے جوہری پروگرام کا معاملہ بھی اٹھائیں گے جبکہ جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول مذاکرات میں اب تک کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔
تائیوان کے معاملے پر امریکی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں ہے، تاہم یہ موضوع دونوں رہنماؤں کے درمیان جاری بات چیت کا حصہ رہے گا۔
Beijing میں ہونے والا یہ دورہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں بہتری یا نئی کشیدگی کا اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔







