
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کے قومی ادارہ برائے ہنگامی بحران و آفات (این سی ای ایم اے) اور وزارت صحت و تحفظ (ایم او ایچ اے پی) نے کہا ہے کہ ملک کسی بھی ابھرتی ہوئی صحت صورتحال، بشمول ہینٹا وائرس، سے نمٹنے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔
حکام کے مطابق ملک میں صحت سے متعلق نگرانی کا مربوط نظام مسلسل فعال ہے اور صورتحال پر چوبیس گھنٹے نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ عوامی تحفظ اور صحت کے اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ یو اے ای کا صحت کا نظام عالمی بہترین طریقوں کے مطابق مسلسل اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور صحت سے متعلق غیر مصدقہ خبروں یا افواہوں پر یقین نہ کریں۔
ہینٹا وائرس، جو ایک نایاب بیماری ہے، عام طور پر چوہوں یا ان کے فضلے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق یہ وائرس عالمی سطح پر کم خطرہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے انسانوں سے انسانوں میں پھیلنے کے امکانات انتہائی محدود ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر حالیہ دنوں میں چند کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک کروز شپ پر متاثرہ افراد کی اموات بھی شامل ہیں، تاہم عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ اس صورتحال سے کسی بڑے وبائی خطرے یا وبا کا امکان نہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگرچہ مزید کیسز سامنے آ سکتے ہیں، لیکن یہ صورتحال کووڈ انیس جیسی عالمی وبا کی شکل اختیار کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیتی۔
یو اے ای حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک کا مربوط نگرانی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور کسی بھی صحت خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔







