متحدہ عرب امارات

یو اے ای کا منی لانڈرنگ اور مشکوک سونے کی تجارت پر زیرو ٹالرنس کا اعلان، نئی انسداد منی لانڈرنگ ٹاسک فورس قائم

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ معیشت و سیاحت نے دبئی کے تاریخی گولڈ سوق کا دورہ کرتے ہوئے سونے اور جیولری مارکیٹ میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف قوانین پر عملدرآمد کا جائزہ لیا ہے۔

عبداللہ بن طوق المری نے کہا کہ یو اے ای میں منی لانڈرنگ کیلئے کوئی گنجائش نہیں اور حکومت اس حوالے سے "زیرو ٹالرنس” پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت نے نئی اینٹی منی لانڈرنگ ٹاسک فورس قائم کر دی ہے تاکہ تمام جیولرز اور سونے کے تاجر عالمی معیار کے مطابق قوانین اور ضوابط پر مکمل عمل کریں۔

یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب عالمی ادارہ Financial Action Task Force آئندہ ماہ دوبارہ یو اے ای کے مالیاتی نظام کا جائزہ لینے جا رہا ہے۔ یو اے ای کو 2024 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکال دیا گیا تھا۔

وزیر معیشت کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تاجروں کیلئے متعدد ورکشاپس منعقد کی گئیں تاکہ مارکیٹ کو عالمی سفارشات کے مطابق ہم آہنگ کیا جا سکے۔

حکام نے بتایا کہ یو اے ای نے سونے کے شعبے کیلئے جامع وفاقی پالیسی، "یو اے ای گڈ ڈیلیوری اسٹینڈرڈ فار گولڈ”، ایمریٹس بولین مارکیٹ کمیٹی اور سونے کی تجارت کیلئے وفاقی پلیٹ فارم سمیت کئی جدید نظام متعارف کرائے ہیں۔

ملک میں اس وقت سونے، قیمتی دھاتوں اور جواہرات کے شعبے سے وابستہ 6213 کمپنیاں اور 53 لائسنس یافتہ گولڈ ریفائنریز کام کر رہی ہیں، جبکہ 2024 میں سونے کی تجارت کا حجم تقریباً 683 ارب درہم رہا۔

عبداللہ بن طوق المری نے گولڈ سوق کے تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "آپ یو اے ای کی معیشت کے معمار ہیں، اسی لیے ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو روکا جا سکے۔”

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button