
خلیج اردو
امریکا کے صدر اور چین کے صدر شی جن پنگ کی اہم ملاقات بیجنگ میں ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور عالمی و علاقائی مسائل پر تفصیلی بات چیت کی۔
ملاقات میں ایران کا معاملہ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال سرِفہرست رہے، جبکہ امریکا اور چین کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدوں پر بھی پیش رفت کی امید ظاہر کی گئی۔
چینی صدر نے امریکی وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختلافات کے باوجود چین اور امریکا کو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا چاہیے کیونکہ دونوں بڑی عالمی طاقتیں ہیں۔
شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی استحکام دونوں ممالک کا مشترکہ ہدف ہے اور عالمی امن و معاشی ترقی کو برقرار رکھنا ان کی تاریخی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
چینی صدر کے مطابق دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، جبکہ بین الاقوامی صورتحال مسلسل غیر مستحکم ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دونوں ممالک مل کر عالمی چیلنجز کا مقابلہ کر کے دنیا کو استحکام دے سکتے ہیں اور اپنے عوام کیلئے روشن مستقبل بنا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار سمجھنا چاہیے۔
شی جن پنگ نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں اور مستحکم دوطرفہ تعلقات پوری دنیا کیلئے فائدہ مند ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی کامیابی اور خوشحالی میں مدد کرنی چاہیے اور تعاون کا درست راستہ اختیار کرنا چاہیے۔







