متحدہ عرب امارات

علاقائی جنگی صورتحال کے بعد متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک میں جنگی خطرات سے متعلق انشورنس کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں جنگ، سیاسی تشدد اور جغرافیائی کشیدگی سے متعلق انشورنس پالیسیوں کی طلب میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انشورنس کمپنیوں کے مطابق خطے میں حالیہ جنگی صورتحال کے بعد کاروباری ادارے اور عام شہری اپنے گھروں، گاڑیوں اور تجارتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے اضافی انشورنس کوریج حاصل کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کی سمت ڈرونز اور میزائل داغے جانے کے بعد خطے میں بے یقینی کی فضا مزید گہری ہوگئی۔ اس صورتحال نے کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو اپنے مالی اور تجارتی خطرات کے بارے میں زیادہ محتاط بنا دیا ہے۔

Orient Insurance Group کے صدر Omer Elamin نے کہا کہ کاروباری ادارے اب سپلائی چین کے تسلسل، آپریشنل تحفظ اور خطرات سے بچاؤ کے اقدامات پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں، جبکہ عام شہری بھی گھروں اور گاڑیوں کی جامع انشورنس کے حوالے سے زیادہ آگاہ ہورہے ہیں۔

اسی طرح Insurancemarket کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو Hitesh Motwani کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں اس نوعیت کی انشورنس سے متعلق پوچھ گچھ کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب صارفین صرف روایتی انشورنس تک محدود نہیں بلکہ جنگ، دہشت گردی، فسادات اور سیاسی عدم استحکام جیسے خطرات کے خلاف بھی تحفظ چاہتے ہیں۔

انشورنس ماہرین کے مطابق پہلے یہ سہولت زیادہ تر بڑی کمپنیوں، گوداموں، فیکٹریوں اور لاجسٹکس اداروں تک محدود تھی، تاہم اب اسے عام موٹر اور رہائشی انشورنس پالیسیوں میں اضافی سہولت کے طور پر بھی شامل کیا جارہا ہے تاکہ زیادہ صارفین اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ طلب تجارتی، شپنگ، درآمد و برآمد اور سپلائی چین سے وابستہ کمپنیوں کی جانب سے آرہی ہے، تاہم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بھی اب اس کوریج میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی عالمی تجارتی مرکز کی حیثیت کے باعث میری ٹائم کارگو، زمینی ٹرانزٹ اور تجارتی انشورنس کے شعبے میں طلب نمایاں طور پر بڑھی ہے۔

Orient Insurance Group نے حال ہی میں اپنی سروسز میں میرین وار رسک، کارگو وار رسک اور ذاتی گاڑیوں و رہائشی املاک کے لیے سیاسی تشدد سے متعلق انشورنس کوریج بھی شامل کی ہے۔

ماہرین کے مطابق جنگی اور سیاسی تشدد سے متعلق الگ انشورنس پالیسیوں کے پریمیم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اندازوں کے مطابق ایسی انشورنس کی قیمت بیمہ شدہ مالیت کے تقریباً 2.5 سے 4 فیصد تک ہوسکتی ہے، جبکہ گاڑیوں کے لیے اضافی لاگت نسبتاً کم یعنی 0.25 سے 0.50 فیصد تک رہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث مستقبل میں جنگی خطرات سے متعلق انشورنس مصنوعات مزید عام اور مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button